ملائشیا میں تیسری صنف کی جیت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیسری صنف سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کے وکیل ایسٹن پائوا نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اپیل کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے

ملائشیا میں تیسری صنف سے تعلق رکھنے والی تین خواتین نے اسلامی قانون کے خلاف اپیل جیت لی ہے جس کے تحت مسلمان مردوں کو خواتین کے کپڑے پہننے پر پابندی ہے۔

اپیل کورٹ کے جج محمد یونس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’ذلت آمیز، جابرانہ اور غیر انسانی‘ یہ قانون ان افراد کے حوالےسے امتیازی ہے جن کو جنسی شناخت کا مسئلہ ہے۔

تیسری صنف سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کے وکیل ایسٹن پائوا نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اپیل کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے۔

ملائشیا کے قوانین میں مسلمان مردوں کا عورتوں کے لباس پہننا ممنوع ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال تک کی قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ملائشیا ہی کی کئی ریاستوں میں عورتوں پر مردوں کا لباس پہننے پر بھی پابندی ہے۔

تینوں اپیل کنندہ مسلمان مرد پیدا ہوئے لیکن اپنی شناخت عورت کے طور پر کراتے ہیں۔ ان افراد کو چار سال قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

سنہ 2012 میں ماتحت عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ یہ تینوں افراد مرد پیدا ہوئے تھے اس لیے ان کو مردوں والے لباس ہی پہننے چاہیئیں۔

تاہم نگیری سیبیلن ریاست کی تین رکنی اپیل کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ یہ قانون ان افراد کو عزت کی زندگی جینے سے محروم کرتا ہے۔

اسی بارے میں