لائبیریا میں ایبولا کے نئے کیسز میں کمی ہوئی ہے:ایم ایس ایف

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کریس سٹوکس نے کہا کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے لائبیریا، گنی اور سرائیلون میں فوری طور پر نمٹا جائے

طبی خیراتی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز نے مغربی افریقی ملک لائبیریا میں ایبولا کے نئے کیسز میں کافی حد تک کمی واقع ہونے کی تصدیق کی ہے۔

میڈیسن سانز فرنٹیئرز(ایم ایس ایف) کے مطابق لائبیریا میں ان کے ایک طبی مرکز میں فی الحال ابیولا کا کوئی کیس نہیں ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ اب بھی سرائیلون اور گنی میں ایبولا بڑھ رہا ہے۔

مغربی افریقہ میں ایم ایس ایف کا عملہ ہزاروں کی تعداد میں ہے اس لیے اس خیراتی ادارے کو ابیولا کے حوالے سے سب سے زیادہ معلومات رکھنے والا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

ایبولا کے تقریباً 14000 مریضوں میں لگ بھگ 5000 ہلاک ہوئے ہیں۔

ایم ایس ایف کے ایبولا ریسپنز کے سربراہ کریس سٹوکس نے بی بی سی کو بتایا کہ لائبیریا میں ایبولا کے کیسز میں کمی صحت کے کارکنوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی کارروائیاں تیز کریں۔

لیکن انھوں نے گنی میں ایبولا کے کیسز میں ہونے والے اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کے پھیلاؤ میں دوبارہ ’تیزی‘ آ سکتی ہے۔

کریس سٹوکس نے کہا کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے لائبیریا، گنی اور سرائیلون میں فوری طور پر نمٹا جائے۔

مغربی افریقہ میں گذشتہ گیارہ ماہ سے پھیلنے والی وبائی بیماری میں لائبیریا سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں زیادہ اموات ہوئیں لیکن اب وہاں مقامی طبی حکام نے بھی کہا ہے کہ ایبولا کے مریضوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ادھر امریکہ، برطانیہ، چین اور دیگر ممالک کی طرف سے کافی چندے دینے کے باوجود اقوامِ متحدہ کے ایبولا مشن کے انچارج نے مزید فوری مالی امداد کی اپیل کی ہے۔

مشن کے انچارج ٹونی بانبری نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا کہ ’اب بھی ایسے لوگ، دیہات، قصبے اور علاقے ہیں جہاں ابھی تک کسی قسم کی امداد نہیں پہنچی۔‘

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے جمعے کو کہا کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کے 13241 مریضوں میں 4950 کی موت واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں