مڈٹرم الیکشن ہلری کی مقبولیت کا پیمانہ تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلری کے مخالفین کا ماننا ہے کہ اگر وہ صدارتی امیدوار بنتی ہیں تو ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات اختتام کو پہنچے اور اب باری 2016 کے صدارتی انتخاب کے لیے مہم کی ہے۔

وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے جہاں کرس کرسٹی جیسے اس دوڑ میں شمولیت کے رپبلکن امیدواروں کے امکانات میں اضافہ کیا ہے وہیں ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے اس دوڑ میں شامل ہونے کے خواہشمندوں کے ارمانوں پر اوس پڑی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے اس عہدے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہلری کلنٹن کی کارکردگی کیسی رہی؟

دو ماہ تک ہلری کلنٹن جورجیا سے لوئزیانا تک ملک کے طول و عرض میں ڈیموکریٹ امیدواروں کے حق میں دورے کرتی رہیں حتیٰ کہ وہ آئیووا بھی گئیں جہاں تین دہائیوں تک ڈیموکریٹس کے قبضے میں رہنے والی ایک نشست پر انتخاب ہو رہا تھا۔

ہلری نے 25 ایسے ڈیموکریٹ امیدواروں کے لیے مہم چلائی جو کمزور قرار دیے جا رہے تھے لیکن ان کی مہم کے باوجود ان میں سے نصف سے زیادہ ہار گئے۔

دیکھا جائے تو انتخابی مہم کے دوران ہلری کلنٹن کی اپنی جماعت کے لیے خدمات تو کچھ خاص نہیں رہیں لیکن ان ہی کی جماعت کی جانب سے صدارتی امیدواری کے ایک اور خواہشمند کرس کرسٹی نے جن 18 امیدواروں کے لیے مہم چلائی ان میں سے 14 کامیاب ہوئے۔

اس بارے میں ریاست کینٹکی سے ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف صدر اوباما سے ہی نہیں بلکہ ہلری کلنٹن سے بھی اظہارِ لاتعلقی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

رینڈ پال نے اس بارے میں فیس بک کا سہارا بھی لیا ہے اور ہارنے والوں کو ہلری کے ہارے ہوئے امیدواروں کے طور پر متعارف کروایا ہے اور آئندہ صدارتی مہم میں یقیناً یہ بات دوبارہ زیرِ بحث آئے گی۔

اس صورتحال میں ہلری کلنٹن کے معتمدین انتخابی مہمات کے دوران ان کی کارکردگی سے صدارتی انتخاب کے مہم کے لیے ایک مختلف سبق سیکھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ہلری کی مہم کی سینیئر مشیر ٹریسی سیفل کا کہنا ہے کہ جس بھی تقریب میں ہلری کسی امیدوار کی حمایت کے لیے پہنچیں وہاں ڈیموکریٹ ووٹرز میں نیا جوش اور ولولہ دکھائی دیا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگ ہم سے مسلسل رابطہ کر رہے ہیں کہ وہ کیسے ہلری کی مہم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں ان(ہلری) کی اشد ضرورت ہے اور یہ کہ وہ ووٹ دینے کے لیے کتنے پرامید ہیں۔‘

ٹریسی کے مطابق ’مڈٹرم الیکشن سے اگر ہلری کو کوئی فرق پڑا ہے تو وہ یہ کہ ان کے حمایتیوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘

ڈیموکریٹس کی کمزور پوزیشن کے باوجود ہلری کے مخالفین کا خیال ہے کہ اگر وہ صدارتی امیدوار بنتی ہیں تو ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلری اپنے ووٹروں سے وہ تعلق قائم کرنا چاہتی ہیں جس میں وہ 2008 میں ناکام رہی تھیں

سابقہ خاتونِ اول انتخابی مہم کے دوران 45 جلسوں میں شریک ہوئیں اور جہاں کہیں بھی وہ گئیں اس جلسے میں شرکا کی مرکزِ نگاہ وہی تھیں۔

آئیووا میں سینیٹر ٹام ہارکن کے لیے پہلے جلسے سے لے کر نیشوا میں آخری انتخابی جلسے تک دو ماہ کے عرصے میں ہلری ایک سیاست دان سے قومی رہنما کا سفر طے کرتی دکھائی دیں۔

یہی وجہ ہے کہ ری پبلکنز نے ابھی سے ہلری کو ممکنہ ڈیموکریٹ امیدوار مان کر جوابی حکمتِ عملی طے کرنا شروع کر دی ہے۔

واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار اور مبصر ایس ای کپ کے مطابق ’ہلری ایک تاریخی امیدوار کے طور پر اپنی مہم چلانا چاہیں گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ان کی مہم کے دوران یقیناً یہ نعرہ سنائی دے گا کہ اگر آپ ہلری کلنٹن کے ساتھ نہیں تو آپ خواتین کے ساتھ نہیں اور نہیں چاہتے کہ ایک خاتون وائٹ ہاؤس میں پہنچے۔‘

نیو ہمپشائر میں ہلری کو عوام میں گھلتا ملتا دیکھ کر ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ اس مرتبہ وہ کسی بھی فیصلے کے اعلان سے قبل اپنے ووٹروں سے وہ تعلق قائم کرنا چاہتی ہیں جس میں وہ 2008 میں ناکام رہی تھیں۔

اسی بارے میں