اسرائیل پولیس کا بیان اور ویڈیو فوٹیج

اسرائیل کے شمالی حصے میں ایک عرب اسرائیلی کو گولی مارنے کے واقعے کی تازہ ویڈیو سے پیدا ہونے والے سوالات کے پس منظر میں اسرائیل کی پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس کا بیان ہے کہ بائیس سالہ شخص نے ایک اہلکار پر چھرے سے حملے کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے اپنے دفاع میں اس کو گولی مار دی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ ایک آدمی نے پولیس کی گاڑی پر کسی چیز سے ضرب لگائی۔ اس کے بعد پولیس کی گاڑی سے ایک اہلکار نے نکل کر اس آدمی کو گولی مار دی جو یہ حرکت کرنے کے بعد بھاگ رہا تھا۔

بیت المقدس میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی میں یہ واقع پیش آیا ہے۔ راہگیروں پر حملوں میں گزشتہ دو ہفتوں میں چار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ دو حملہ آوروں کو بھی ہلاک کیا جا چکا ہے۔

ہفتے کو صبح سویرے پولیس خیرالدین ہمدان کے ایک رشتہ دار کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچ گئی۔

یروشلم پوسٹ نے پولیس کے ایک بیان کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ہمدان کے ہاتھ میں چھرا تھا اور اس نے پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے کی کوشش کی۔

پولیس نے پہلے ہوا میں فائرنگ کی لیکن جب ان کی اپنی جانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا تو انھوں نے اپنے دفاع میں اس شخص کو گولی مار کے ہلاک کر دیا۔

اسی اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

اس میں دکھایا گیا ہے کہ اس شخص نے دائیں ہاتھ سے کوئی چیز سے پولیس کی گاڑی کے شیشے پر ماری۔ اس کے بعد وہ پیچھے ہٹا اور پولیس کی گاڑی سے ایک اہلکار برآمد ہوا۔ اس اہلکار نے بندوق نکال کر جیسے ہی وہ شخص مڑا اس گولی ماری دی۔ اس کے بعد تین اہلکار ہاتھوں میں بندوقیں لیے گاڑی سے اتر آئے۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق اس شخص کو خبردار کرنے کے لیے کوئی ہوائی فائر نہیں کیا گیا۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شخص ابھی زندہ تھا جب پولیس نے اس اٹھا کر گاڑی میں ڈالا۔ یہ شخص بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

اس واقعے کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کیمرہ میں دیکھا جاسکتا ہے پولیس والوں کی جان کو کوئی خطر نہیں تھا۔

ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص پولیس سے دور بھاگ رہا تھا جب اسے گولی کا نشانہ بنایا گیا۔