بیت المقدس میں تیزی سے کشیدہ ہوتی صورتحال

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسرائیل نے علاقے میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں

مشرقی بیت المقدس (یروشلم) میں نوجوان فلسطینی نوجوانوں کے اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔

یروشلم کے مشرقی کے شوعفات رہائشی علاقے میں واقع حسین ابو قادر کے گھر کے اطراف کی گلیاں اکثر اوقات میدان جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

یہاں پر اس وقت اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جب حسین ابو خضیر کے 16 سالہ بیٹے محمد ابو خضیر کو انتہا پسند یہودیوں نے اغوا کرنے کے بعد زندہ جلا کر مارا ڈالا۔

یہ قتل مغربی کنارے میں فلسطینی شدت پسندوں کے ہاتھوں تین اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا گیا تھا اور اس واقعے نے پہلے سے جاری احتجاجی تحریک کو مزید ہوا دی۔

ابو خضیر کے مطابق غصے میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب ہمیں مقبوضہ علاقے میں اسرائیل کی جانب سے خاصے مسائل کا سامنا ہے اور اسرائیلی کی سرحدی فورس کو ہمارے گھروں کے بالکل سامنے تعینات کرنے سے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں اس وقت اردن کے علاقے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور اس قبضے کو بین الاقوامی برداری تسلیم نہیں کرتی ہے۔

علاقے میں فلسطینی شہری امتیازی سلوک کی شکایات کرتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ علاقے میں یہودی آبادکاروں کی تعداد میں اضافے سے کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مشرقی یروشلم میں پیدل چلنے والے افراد کو کچلنے کے دو واقعات پیش آئے

مقبوضہ علاقے میں رہائشی علاقوں کی تعمیر غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جبکہ اسرائیل اس کی تردید کرتا ہے۔

محمد ابو خضیر کی موت کے بعد سے مشرقی یروشلم کے عرب علاقے صلوان، ابو تور سمیت دیگر علاقوں میں مظاہرے کرنے پر سینکڑوں فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

جھڑپوں کے تازہ واقعات اس وقت شروع ہوئے جب یہودیوں کی جانب سے مقدس مقام بیت المقدس میں ان پر عبادت کے حوالے سے عائد پابندیاں ہٹانے کے مطالبات شروع ہوئے۔ صورتحال مزید خراب اس وقت ہوئی جب یروشلم میں دائیں بازو کے نمایاں یہودی کارکن اور یہودیوں کو عبادت کے لیے زیادہ رسائی کی اجازت دینے کی مہم میں سرگرم ربی یہودا گلک پر فائرنگ کی گئی۔

اس واقعے کے بعد گذشتہ ہفتے ٹیمپل ماؤنٹ (گنبد صخرا) یا حرم الشریف کو فلسطینی مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے واقعے کے لیے مختصر وقت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

حرم الشریف اسلام میں تیسرا مقدس ترین مقام ہے جبکہ یہودیوں کے لیے بھی یہ مقدس مقام کا درجہ رکھتا ہے اور یہاں پر یہودیوں کی دو قدیم عبادت گاہیں موجود ہیں۔ حرم الشریف کے احاطے میں دو اہم مساجد، مسجدِ اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل انتہا پسند یہودیوں کو حرم الشریف میں جانے کی اجازت دے کر صورتحال مزید خراب کر رہا ہے

موجودہ قوانین کے تحت یہودیوں کو احاطے میں جانے کی اجازت ہے لیکن وہاں عبادت نہیں کر سکتے ہیں۔

خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اسرائیل قانون سازی کے ذریعے پابندی کے اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کرنے جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کے اشتعال میں اضافہ ہوا ہے۔

مسجدِ اقصیٰ کےڈائریکٹر عمر قصوانی کے مطابق’ہمیں بہت اچھا لگتا ہے جب ہم پرسکون ہو کر عبادت کرتے ہیں لیکن اسرائیلی حکومت انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں اور وزراء کو یہاں بھیج کر صورتحال میں مدد نہیں کر رہی ہے۔‘

بدھ کے روز احاطے کے سرکاری طور پر نگراں ملک اردن نے مسجد کے باہر اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد اسرائیلی سفیر کو طلب کیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعطم بنیامن تین یاہو نے اس کے بعد اردن کے بادشاہ عبداللہ کو بتایا کہ ان کی جانب سنہ 1994 کے امن معاہدے کی شرائط کے تحت یہودیوں کی عبادت پر عائد پابندیوں میں تبدیلی لانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگوو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی اتحادی حکومت میں شامل دائیں بازو کے رہنماؤں کو بھی یہ ہی پیغام دیا ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ ٹیمپل ماؤنٹ کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور اگر کوئی اس بارے میں الگ موقف بیان کرتا ہے تو وہ اس کی ذاتی رائے ہو گی اور اس کی حکومتی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

دوسری طرف فلسطینی اسلامی گروپ حماس جو اسرائیل کو ابدی دشمن تصور کرتا ہے اس نے الاقصیٰ مسجد پر کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

حماس کے ایک شدت پسند نے گذشتہ ہفتے ٹیمپل ماؤنٹ کے قریب پیدل چلنے والے افراد کو کچل دیا تھا اور اس واقعے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ چند دنوں میں اس نوعیت کا دوسرا واقعہ تھے اور دونوں واقعات میں اسرائیلی سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے عینی شاہدین میں سے ایک ڈینئیل سنکلئیر کے مطابق: ’میں نے ٹرام ٹریک پر خون دیکھا اور یہ بالکل ڈراؤنی فلم جیسا منظر تھا، اور ہر ایک صدمے میں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شہر کے کئی علاقوں خاص کر مشرقی علاقوں میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی تعداد میں قابل ذکر حد تک اضافہ ہوا ہے۔

ٹرام کی لائن کے سٹیشن کے اطراف میں کنکریٹ کے بلاکس نصب کیے گئے ہیں۔ پولیس نے سڑکیں بند کرنے کے انتظامات کیے ہیں جبکہ اہم چوراہوں پر پولیس کی نفری میں اضافہ کیا ہے۔

مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں جمعے کو عبادت کے لیے آنے والے فلسطینی شہریوں کی عمر پر عائد پابندی برقرار رہی اور یہ اقدام اسرائیلی سکیورٹی کے مطابق حفاظتی اقدامات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مقدس مقام پر تنازعے کی وجہ سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

دائیں بازو کے ایک یہودی کارکن کو ہلاک کرنے کی کوشش کے ایک ہفتے بعد جمعرات کو کارکن کے حق میں مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے میں شامل ایک یہودی کارکن یحائیل یرسرائیل کے مطابق’ کم از کم حد یہ ہے کہ تمام مذاہب کے افراد کو ٹیمپل ماؤنٹ میں عبادت کا حق حاصل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حرم الشریف اسلام مذہب اسلام میں تیسرا مقدس ترین مقام ہے جبکہ یہودیوں کے لیے بھی یہ مقدس مقام کا درجہ رکھتا ہے

انھوں نے مزید کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ عبادت گاہ کو دوبارہ تعمیر کیا جائے اور یہ اس صورت تک نہیں ہو گا جب تک قومی سطح پر بات نہیں کی جاتی ہے۔ اس وقت غلط افراد اس کے انچارج ہیں۔

یروشلم کا مستقبل اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے میں مرکزی حیثیت کا حامل رہے گا۔اسرائیلی متحدہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت دیکھنا چاہتے ہیں۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ غزہ، غرب اردن پر مشتمل ایک علیحدہ ریاست قائم کی جائے جس میں مشرقی یروشلم دارالحکومت ہو۔

بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے امن مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے کئی باتیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ سیاسی خلا کو تیزی سے تشدد ہی پُر کرے گا۔

اسی بارے میں