شمالی کوریا نے دو امریکی شہری رہا کر دیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں امریکی شہریوں کو قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی

امریکی حکام کے مطابق شمالی کوریا میں قید کیے گئے دو امریکی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

میتھیو ٹوڈ مِلر اور کینتھ بئے رہائی کے بعد امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔

امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ ملک کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر ان دونوں شہریوں کے ساتھ ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم شمالی کوریا کی جانب امریکی شہریوں کو رہا کرنے کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

محکمۂ خارجہ کے مطابق دونوں شہریوں کو تقریباً دو سال اور سات ماہ قید میں رکھا گیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ستمبر میں اشتعال انگیزی پر مبنی اقدام کے جرم میں امریکی شہری ملِر کو چھ سال قید بامشقت سنائی گئی تھی۔

انھیں اپریل میں حراست میں لیا گیا تھا اور شمالی کوریا کے ذرائع کے مطابق انھوں نے اپنی سیاحتی ویزا ضائع کرنے کے بعد پناہ کی درخواست دی تھی۔

اس کے علاوہ کینتھ بئے کو نومبر 2012 میں چین کی سرحد سے متصل ساحلی شہر راسن سے گرفتار کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق بئے سیاحت کے آپریٹر اور عیسائی مبلغ تھے۔

شمالی کوریا نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے اپنے سیاحتی کاربارہ کی آڑ میں گروپ قائم کیے تاکہ حکومت گرائی جا سکے۔

انھیں مئی 2013 میں 15 سال قید بامشقت سنائی گئی تھی۔

شمالی کوریا حالیہ سالوں میں کئی امریکی شہریوں کو گرفتار کر چکا ہے۔ ان گرفتار شدگان میں صحافی اور مذہبی لوگ شامل تھے جن پر لوگوں کو مذہب بدلنے کے لیے اکسانے کا الزام تھا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا پر کشیدہ صورتِ حال میں جیل میں قید امریکی کو رعایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

اسی بارے میں