دولت اسلامیہ کےاجلاس پر امریکی طیاروں کی بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے عراقی شہر موصل کے قریب دولت اسلامیہ کےایک اجلاس پر بمباری کی ہے لیکن اس بمباری میں کون ہلاک ہوا ہے یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اس کے طیاروں نے جمعے کے روز گاڑیوں کے ایک قافلے کو تباہ کیا لیکن وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ دولت اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی بھی اس قافلے میں موجود تھے یا نہیں۔

پینٹاگون کے ایک بیان کے مطابق امریکی طیاروں نے دولت اسلامیہ کے دس ٹرکوں کے ایک قافلے کو تباہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

ابوبکر البغدادی نے پہلی مرتبہ جولائی میں موصل کی ایک مسجد میں پہلی بار منظر عام پر آ کر مسلمانوں کو کہا تھا کہ وہ ان کی بیت کریں۔

دولت اسلامیہ کے جنجگو شام اور عراق کے بڑے علاقوں پر قابض ہیں لیکن گزشتہ دو مہینوں سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں۔

پینٹاگون نے سنیچر کے روز اعلان کیا کہ وہ عراقی فوج کی مدد کے لیے مزید پندرہ سو فوجی عراق بھیج رہا ہے۔ امریکہ کے سولہ سو فوجی مشیر پہلے ہی عراق میں موجود ہیں اور عراقی فوج کی مدد کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے کانگریس سے 5 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کا مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں سے 1 اعشاریہ 6 ارب ڈالر عراقی فوج کی تربیت پر صرف ہوں گے۔

ادھر عراق کے مختلف شہروں میں کئی کار بم دھماکوں کی ایک لہر میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ عراق کے ایک سینیئر پولیس افسر جمعہ کو ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔سنیچر کو کار بم دھماکوں میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔