امریکہ میں انتخابات، جانور صدمے میں

امریکہ میں جب انتخابات ہوتے ہیں تو لگتا ہے جیسے بیچارے جانوروں کی شامت آ جاتی ہے۔

ایک طرف ریپبلكنز نے اپنا نشان ہاتھی رکھا ہوا ہے تو ڈیموكریٹس نےگدھا۔ جسے دیکھو وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی پیٹھ پر ٹھپّا لگا کر چل دیتا ہے۔

ایک ڈیموکریٹ امیدوار نے تو اس بار ریپبلكنز پر غصہ اتارنے کے لیے ہاتھی کا بڑا سا پتلا بنایا اور اس پر دنادن گولیاں داغنے لگے اور پھر ایک تصویر بنوائی جس میں وہ ایک گدھے کو گھسیٹتے ہوئے كیپٹل ہل لے جا رہے ہیں۔

ہاتھی اورگدھے کو تو عادت پڑ چکی ہے اس ایموشنل ظلم کی، لیکن ایک ریپبلكن خاتون امیدوار نے جو کیا ہے اس سے تو پورے ملک کے سور ڈپریشن میں چلے گئے ہیں۔

یہ دائیں بازو کے خیالات کی حامل خاتون جونی ارنسٹ ہیں جنہوں نے اپنی انتخابی مہم میں جو اشتہار جاری کیا اس سے ان کی قسمت ہی بدل گئی۔

اس ٹی وی اشتہار میں بیچارے مایوس پڑے ہوئے کچھ سوروں کو وہ دکھاتی ہیں اور کہتی ہیں بچپن میں میں اپنے فارم پر سوروں کی نس بندی کرتی تھیں۔ اگر آپ نے مجھے کامیاب کیا تو میں واشنگٹن میں سور کے گوشت کو کیسے کاٹنا ہے یہ اچھی طرح سے جانتی ہوں۔

امریکہ کی سیاسی زبان میں سور کا مطلب ہوتا ہے ایک طرح کا پوشیدہ بجٹ جو کسی بل پر اپنے ووٹ کے بدلے کئی سینیٹرز خاموشی سے اپنے علاقے کے لیے پاس کروا لیتے ہیں۔

تو اس سور کو کاٹنے کی بات تو جونی ارنسٹ نے کی ہی ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے واشنگٹن بھیجو، میں سوروں کی طرح چیخیں نكلواؤں گی۔ اب تو وہ جیت گئی ہیں۔ واشنگٹن پہنچ کر وہ کس کی اور کس طرح چیخیں نكلوائیں گی یہ تو کانگریس والے جانیں لیکن ذرا سوچیے سوروں پر کیا بیت رہی ہوگی۔

ایک تو پہلے ہی وہ پریشان رہتے ہیں۔ بچپن میں کوئی پوچھتا ہے کہ بیٹے بڑے ہو کر کیا بنو گے تو کہنا پڑتا ہے کہ سوسیج میں ٹھونسا جاؤں گا یا پھر پیزا پر میرے چھوٹے چھوٹے گول گول ٹکڑے بكھیرے جائیں گے۔

خیر سوروں کی چھوڑیے اب ہرنوں کی بات کر لیجیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سارہ پالن اپنی انتخابی مہم میں ہرنوں کا شکار کرتے ہوئے دکھائی جاتی تھیں

سیرا پیلن یاد ہیں نہ آپ کو؟ جان میكین نے انہیں اپنا نائب صدر کا امیدوار بنایا تھا اور ان کی سیاست سے زیادہ ان کی خوبصورتی کا ذکر ہوتا تھا۔ اور ان کے جو اشتہار ہوتے تھے ان میں وہ بالکل رانی ہنٹروالی پوز میں ہرنوں کا شکار کرتی ہوئی دکھائی جاتی تھیں اور پھر بڑے سے چاقو سے اس امریکی ہرن کی کھال اتار رہی ہوتی تھیں۔

یو ٹیوب پر ایک سرچ ماریں گے تو ہر جگہ سیرا پیلن ہرنوں کی ایسی تیسی کرتی نظر آئیں گی۔ کہتے ہیں امریکی ہرن ابھی تک اس صدمے سے نکل نہیں پائے ہیں۔

جہاں بھی ریپبلكنز کی ہوا بہتی ہے وہاں ڈیموكریٹس ہوں یا ریپبلكنز دونوں ہی بندوق رکھنے کے حق میں بات کرتے ہیں اور ہاتھ میں بندوق ہو تو نشانے پر جانور ہی آتے ہیں۔

ان انتخابات میں تو کچھ ریاستوں میں اس بات پر بھی ووٹنگ ہوئی ہے کہ بھالو، بھیڑیا اور ہرن کے شکار کو منظوری دی جائے۔

پوری دنیا میں انسانی حقوق کا ٹھیکہ لینے والے امریکہ میں ان جانوروں کے متعلق کوئی نہیں سوچتا۔

اور تو اور سیاسی بول چال میں بھی جانوروں کا ہی مذاق اڑایا جاتا ہے۔

اوباما اپنی حکومت کے آخری دور میں ہیں تو انہیں ’لیم ڈک ‘ کہا جا رہا ہے، یعنی وہ لنگڑا بطخ جو اپنے ریوڑ کے ساتھ قدم نہیں ملا پاتا تو باقی اسے پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں۔

صحافی اپنے آپ کو بڑا حساس مانتے اور سمجھتے ہیں لیکن انہیں میں سے ایک نے ریپبلكنز کے متعلق لکھا ہے: ’ریپبلكنز اس کتے کی طرح ہیں جو کار کے ساتھ ساتھ دوڑ لگاتا ہے لیکن جب آگے نکل جاتا ہے تو اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کیا کرنا ہے۔‘ کتے کو اتنا نادان کہنا کہاں تک صحیح ہے؟

خیر ہمیں کیا حق بنتا ہے انگلی اٹھانے کا۔ ہمارے یہاں تو خود ہی جب گبّر سنگھ کو غصہ آتا ہے تو وہ چلاتے ہیں، سور کے بچوں .. جب دھرمیندر کو غصہ آتا ہے تو وہ چیختے ہیں، کتے میں تیرا خون پی جاؤں گا۔

واقعی، بہت ناانصافی ہے

اسی بارے میں