دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ نئے مرحلے میں داخل: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عراقی افواج آگے بڑھ کر ان علاقوں کا کنٹرول حاصل کریں جن پر جنگجوؤں قابض ہیں: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ پندرہ سو مزید امریکی فوجیوں کی عراق روانگی سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

صدر اوباما نے سی بی ایس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے جن پندرہ سو امریکیوں کو عراق روانہ کیا ہے وہ لڑائی میں براہ راست حصہ نہیں لیں گے لیکن ان کی عراق میں موجودگی سے عراقی افواج کے حملہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جائےگی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ دیکھیے بی بی سی اردو ٹی وی کی رپورٹ

امریکہ اور اس کے اتحادی عراقی افواج کی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ہاتھوں پسپائی کے بعد عراقی افواج کی مدد کو آئے ہیں۔ دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی عراقی اور کرد افواج کی مدد کے لیے دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی میں مصروف ہیں اور گذشتہ دو مہینوں میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر سینکڑوں فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق عراقی افواج نے بیجی شہر کے بڑے حصے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ اس شہر میں عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری واقع ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے عراقی افواج بیجی شہر کے 50 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ بیجی بغداد سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں عراقی افواج کو سارے عراق کی افواج بنانا اور اسے بااعتبار فوج بنانا تھا: ’پہلا مرحلہ طے ہو گیا ہے اور اب نہ صرف آگے بڑھتی ہوئی دولت اسلامیہ کو روکا جا چکا ہے بلکہ اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ ان پر حملہ کر سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر غلبہ قائم کر رکھا ہے

امریکی صدر نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں سے ان کی آگے بڑھنے کی صلاحیت کم ہوئی ہے اور اب ضروری ہے کہ عراقی افواج دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف آگے بڑھیں اور ان کو ان علاقوں سے بے دخل کریں جہاں پر انھوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

امریکی صدر کی طرف سے پندرہ سو فوجیوں کی عراق روانگی سے عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد تین ہزار سےتجاوز کرگئی ہے۔

امریکی افواج دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے رہے بلکہ وہ عراقی افواج کی تربیت اور رہنمائی کر رہے ہیں

پینٹاگون کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نو عراقی اور تین کرد بریگیڈوں کو تربیت مہیا کریں گے اور اس مقصد کے لیے مراکز بنائے جائیں گے۔

امریکی صدر سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ مزید فوجی عراق بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ بطور کمانڈر انچیف وہ کبھی بھی ’نہ‘ نہیں کہیں گے۔

امریکی جنگی طیاروں نے جمعے کے روز عراق کے شمالی شہر موصل کے قریب شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا تھا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی اس حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بغدادی امریکی حملے میں زخمی ہوئے ہیں: عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی

دولت اسلامیہ کے حامیوں نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ابوبکر البغدادی اس اجتماع میں موجود تھے جس پر امریکی طیاروں نے حملہ کیا تھا۔

البتہ عراق کے وزیر دفاع اور وزارت داخلہ کی اطلاعات کے مطابق ابوبکر البغدادی امریکی حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔

عراق کے وزیر دفاع خالد العبیدی نے اپنے فیس بک کے صفحے پر لکھا: ’ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ جمعے کی شام کو موصل کے قریب امریکی طیاروں کی کارروائی میں بغدادی زخمی ہو گئے ہیں۔‘

وزیر دفاع نے مزید لکھا کہ ابوبکر البغدادی کے نائب ابو مسلم الترکمانی اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں: ’میری خدا سے دعا ہے کہ وہ ابوبکر البغدادی کی صحت یابی میں مدد نہ کرے تاکہ وہ جلد مر جائے۔‘

البتہ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ابوبکر البغدادی جمعے کے روز نہیں بلکہ سنیچر کے روز امریکی طیاروں کی کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں لیکن امریکی طیاروں کا یہ حملہ موصل میں نہیں بلکہ وہاں سے چار سو کلو میٹر دور ہوا تھا۔

تاہم پینٹاگون نے کہا کہ ان کے پاس ایسے کسی حملے کی معلومات نہیں ہیں۔

اسی بارے میں