’قیدی رعایتی نرخ پر ٹیٹو ختم کروائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹیٹوز ہٹانے کا مقصد، قیدیوں کو ایک بہتر شہری بنانے اور ان کے لیےنوکریاں ڈھونڈنے میں آسانی پیدا کرنا ہے

نیوزی لینڈ میں قیدیوں کو رعایتی نرخوں پر جسم سے ٹیٹوز ہٹانے کی سکیم متعارف کروائی گئی ہے۔

مقامی اخبار نیوزی لینڈ ہیرالڈ کے مطابق یہ سروس قیدیوں کو دوبارہ خطرناک جرائم سے روکنے کے لیے متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت ان کے چہروں، گردن اور ہاتھوں پر موجود ٹیٹوز صرف 15 پاؤنڈز کے عوض ہٹائے جا سکیں گے۔

یہ سروس فی الحال آک لینڈ کے دو قید خانوں میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے متعارف کروائی ہے۔

تنظیم کے بقول اس کا مقصد قید کی مدت پوری ہونے کے بعد قیدیوں کو ایک بہتر شہری بنانے اور نوکریاں ڈھونڈنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

ایک ٹیٹو چار سے چھ سیشنز میں ہٹایا جا سکتا ہے اور جیل سے باہر ٹیٹو ہٹانے کی فیس تقریباً 100 پاؤنڈز بنتی ہے۔

اسی طرح کی ایک سکیم 2006 میں بھی متعارف کروائی گئی تھی جو کہ پولیس آفیسر کو قتل کرنے والے ایک قیدی کے چہرے سے ٹیٹو ہٹانے پر سرکاری خزانے سے 2200 پاؤنڈز خرچ کرنے کے انکشاف کے بعد ختم کر دی گئی تھی۔

خبر رساں ویب سائٹ سٹف ڈاٹ نیوزی لینڈ کے مطابق پرانی سکیم کے تحت قیدیوں کو جیل سے ٹیٹو ہٹانے والے مراکز لے جا کر ٹیٹو ہٹائے جاتے تھے۔

لیکن حکام کے مطابق یہ ایک انتہائی رسک لینے والا کام تھا۔

اس سے پہلے اسی طرح کی سروس لاس اینجلس کی جیلوں میں بھی متعارف کروائی گئی تھی لیکن وہاں پر قیدیوں سے پیسے نہیں لیے جاتے تھے۔