جنوبی کوریا: کشتی کے کپتان کی سزا پر لواحقین کا احتجاج

Image caption کشتی کے حادثے کے مقدمے کے فیصلے میں 70 سالہ کپتان کو غفلت برتنے پر 36 سال قید کی سزا سنائی گئی

جنوبی کوریا میں کشتی کے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین نے عدالت کی جانب سے عملے کے تین سینئر اہلکاروں کو قتل کے بجائے غفلت کے جرم میں سزا سنائے جانے کے فیصلے کو نرم اور ناکافی قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سیول فیری جب غرقاب ہوئی تھی تو اس پر 476 افراد سوار تھے جس میں سے 300 سے زیادہ ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر طلبہ تھے۔

فیری کے کپتان لی جون سیوک فیری عملے کے ان 15 ارکان میں شامل ہیں جن پر لاپروائي برتنے کا مقدمہ چلایا گیا۔

استغاثہ نے ان پر قتل عام کا الزام لگاتے ہوئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا لیکن جج نے انھیں اس الزام سے بری کر دیا، تاہم لاپروائی برتنے کے لیے سزا سنائی۔

جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین نے فیصلے کے خلاف استغاثہ کی اپیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کیا تمھیں معلوم ہے کتنے بچے ہلاک ہوئے؟ اس احتجاجی جملے کی گونج کمرہ عدالت میں اس وقت سنائی دی جب کشتی کے کپتان اور دیگر عملے کو سزا سنائی گئی۔

ایک غمزدہ والد نے عدالتی فیصلے کے بعد اپنے تاثرات میں کہا کہ ان کی عمر 30 سال ہے اور وہ اگر انھیں کشتی کے حادثے کے ذمے دار اہلکاروں کی جیل سے واپسی کے لیے 30 سال تک انتظار کرنا پڑا تو وہ کریں گے اور وہ ان کے پیچھے جائیں گے۔

دیگر والدین کے تاثرات کچھ یوں تھے۔’جج ٹھیک نہیں، کیا ہمارے بچوں کی جان کی اتنی ہی تھوڑی قیمت تھی؟ عملے کے لیے موت کی سزا کافی نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیول فیری کے 15 عملوں پر کشتی حادثے کے لیے مقدمہ چلایا گیا اور انھیں سزا سنائی گئی

دوسری جانب استغاثہ کی ٹیم کے ایک وکیل فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ان کی ٹیم عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی ۔ تاہم سینئیر وکیل استغاثہ پارک جیوک کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر نے ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

مقدمے میں شامل ججز اس بات پر متفق تھے کہ کشتی کے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ دار صدرف کپتان نہیں اور انھوں نے انپی غفلت کو تسلیم بھی کیا ہے۔

عملے میں شامل تین ارکان ایسے بھی تھے جو مسافروں کی جان بچاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

عدالتی فیصلے میں عملے چیف انجینئیر کو قتل کے الزام میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ ان پر الزام تھا کہ وہ اپنے دو زخمی ساتھیوں کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

لیکن جس شخص کو کبھی بھی مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا وہ کمپنی کا مالک ہے کیونکہ جیسے ہی حکام نے ان کا کھوج لگانے کی کوشش کی وہ فرار ہو گیا اور بعد ازاں مردہ حالت میں پایا گیا۔

فیری کے انجینيئر کو بھی ارتکابِ قتل کا مرتکب پایا گیا اور انھیں 36 سال کی سزا سنائی گئي ہے، جبکہ عملے کے باقی ماندہ 13 ارکان کو 20 سال تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے شہر گوانگجو میں موجود ہمارے نمائندے سٹیو ایونز کا کہنا ہے کہ لی کی عمر 70 سال کے قریب ہے اور اس سزا کے بعد یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہ اپنی ساری عمر جیل میں ہی گزاریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لی کی عمر 70 سال کے قریب ہے اور اس سزا کے بعد یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب وہ اپنی ساری عمر جیل میں ہی گزاریں گے

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ عدالت میں اس بات پر بحث کی گئی کہ آیا حادثہ قتل کے مقصد سے کیا گیا تھا یا لاپروائی کا نتیجہ تھا۔

واضح رہے کہ فیری کے کپتان کو حادثے کے بعد بہت سے مسافروں کو کشتی پر چھوڑ کر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا تھا اور ان کی تصویر اتار لی گئی تھی۔

سماعت کے دوران لی نے مسافروں کو چھوڑ کر بھاگنے پر معافی مانگی ہے۔

اس حادثے کے بعد ملک گیر پیمانے پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور فیری کے معاملے میں عام بدنظمی اور ناگہانی صورت حال سے نمٹنے میں کوتاہی کی باتیں سامنے آئی تھیں۔

یہ حادثہ رواں سال 16 اپریل کو پیش آیا تھا۔ غوطہ خوروں نے 295 لاشیں نکالی تھیں جبکہ نو افراد اب تک لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔

اس کے بعد حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں کوسٹ گارڈز کو ختم کر کے ایک نئی ایجنسی کو ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ انھوں نے زیادہ مستعدی سے لوگوں کی جان بچانے کی کوشش نہیں کی تھی۔

گذشتہ مہینے سماعت کے اختتام پر مسٹر لی نے کہا تھا کہ انھوں نے جرم کیا ہے، جس کی سزا موت ہو سکتی ہے، لیکن انھوں نے مسافروں کے مارنے کے ارادے سے انکار کیا۔

اسی بارے میں