افغانستان میں افیون کی ریکارڈ کاشت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اس برس جب افغانستان سے نیٹو فوجوں کا انخلا جاری ہے، ملک میں افیون کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم کی مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 17 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم کے سنہ 2014 کے جائزے میں بتایا گیا ہے کہ افیون کے زیر کاشت رقبے میں اس سال 7 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب افغانستان میں کل 2 لاکھ 24 ہزار ایکڑ رقبے پر افیون کاشت کی جا رہی ہے۔

دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم کے سربراہ یوری فدوتوو نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد یہ خطرہ بہت بڑھ گیا ہے کہ افغانستان منشیات کا گڑھ ملک یا ’نارکو سٹیٹ‘ بن جائے گا۔

اب بھی ملک میں سب سے زیادہ افیون شمالی صوبے ہلمند میں پیدا کی جا رہی ہے جہاں اس سال اکتوبر تک برطانوی فوجی تعینات تھے۔

اقوام متحدہ کے سالانہ جائزے کے مطابق افغانستان میں افیون کی پیداوار ختم کرنے کی کوششوں میں 63 فیصد کمی ہو چکی ہے۔

بحیثیتِ مجموعی افغاستان میں سب سے زیادہ افیون ملک کے شمالی اور مغربی حصوں میں کاشت کی جا رہی ہے جن میں ہلمند کا غیر محفوظ ترین صوبہ شامل ہے۔

اس صوبے میں برطانوی فوجیوں کو تعینات کرنے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ یہاں پر افیون کی کاشت پر قابو پائیں گے۔

سنہ 2001 میں جب امریکہ کی سرکردگی میں نیٹو افواج نے طالبان کا تختہ الٹا تھا، اس وقت سے اب تک افغانستان سے افیون کو ختم کرنے کے منصوبوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔

امریکی حکومت کے اخراجات پر نظر رکھنے والے حکام نے اکتوبر میں کہا تھا کہ امریکہ گذشتہ 13 سالوں میں افغانستان کی تعمیر نو کے پروگرام کے تحت افیون کی روک تھام پر سات ارب 60 کروڑ ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

ان کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم کا اندازہ ہے کہ آئندہ برسوں میں افغانستان میں افیون کی پیداوار میں مذید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ سنہ 2013 میں افغانستان میں افیون کی فصل کی کل مالیت تین ارب ڈالر کے قریب تھی جو کہ سنہ 2012 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ تھی۔

سنہ 2010 سے افغانستان میں افیون کی کاشت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں افیون کی پیداوار کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ افغانستان میں پیدا کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں