ورلڈ کپ: ’قطر مزدوروں کا استحصال روکنے میں ناکام‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گزشتہ سال قطر میں 180 غیر ملکی مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے

سنہ 2022 کے فٹ بال کے عالمی مقابلوں کی تیاریوں کے چھ ماہ کے اندر اندر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے خبردار کر دیا ہے کہ میزبان ملک قطر غیر ملکی مزدوروں کا استحصال روکنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

مئی میں عالمی تنظیموں نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ قطر میں عالمی کپ کے لیے جاری تعمیرات میں مصروف غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ اس پر قطری حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ سنہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے قطر میں نئے سٹیڈیم تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشل کا کہنا ہے کہ کارکنوں کے استحصال کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات بہت ناکافی ہیں۔

دیگر اعتراضات کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ قطر ان متنازع قوانین میں ترمیم میں ’بہت سست روی‘ دکھا رہا ہے جن کے تحت غیر ملکی مزدور ایک ہی آجر کے ساتھ بندھے رہتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشل کا کہنا ہے کہ قطر نے ابھی تک اس قانون کو بھی ختم نہیں کیا جس کے تحت قطر سے واپس جانے کے خواہش مند غیرملکی کارکنوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کمپنی سے اجازت لیں جو انھیں قطر لائی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشل میں ’پناہ گزینوں اور غیر ملکیوں کے حقوق‘ کے امور کے سربراہ شریف السید علی کا کہنا تھا کہ ’وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے۔قطر کی جانب سے عالمی کپ کی میزبانی کی درخواست منظور ہوئے چار سال گزر چکے ہیں اور تمام دنیا کی نظریں اُس پر لگی ہوئی ہیں، لیکن ابھی تک قطر غیر ملکی مزدوروں کے استحصال کو روکنے اور متعلقہ قوانین میں ترامیم کے وعدوں پر عمل در آمد نہیں کر پایا ہے۔‘

شریف السید علی کے بقول ’یہ یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے کہ ہم کوئی ایسا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ نہ کھیلیں جس کی تعمیر میں لوگوں سے زبردستی مزدوری کرائی گئی ہو اور ان کا استحصال کیا گیا ہو۔‘

واضح رہے کہ فٹبال مقابلوں کی تیاری کے لیے گزشتہ عرصے میں غیر ملکی مزدوروں اور دیگر کارکنوں کی ایک بڑی تعداد خلیجی ریاست پہنچ چکی ہے اور ان مزدوروں کی تعداد مقامی کارکنوں سے خاصی زیادہ ہے۔

اس ماہ کے شروع میں قطر کے کھیلوں کے وزیر صالح بن ناصر العلی نے کہا تھا کہ ’ قطر کا منصوبہ ہے کہ اگلے چند ماہ کے اندر اندر مزدوروں سے متعلق قوانین میں ترامیم کر لی جائیں۔‘

لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ابھی تک بات تجاویز سے آگے نہیں بڑھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ورلڈ کپ کی وجہ سے دنیا کے امیر ترین ملک میں تعمیراتی منصوبوں میں تیزی آئی ہے

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ قطری حکومت بارہا اعتراف کر چکی ہے کہ غیر ملکی مزدوروں کے حالات میں بہتری کی ضرورت ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے اورحکام پر لازم ہے کہ وہ اگلے چند ماہ میں ضروری اقدامات مکمل کریں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر قطر اپنے ہاں ضروری تبدیلیاں لانے میں ناکام رہتا ہے تو ’ یہ سوال اٹھے گا کہ آیا قطری حکام ترامیم کے بارے میں سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں؟‘

واضح رہے کہ گزشتہ سال قطر میں 180 غیر ملکی مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور مزدروں کی ایک بڑی تعداد غیر محفوظ حالات میں کام کرنے کی وجہ سے زخمی بھی ہو چکی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق قطر فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کی جانے والی تعمیرات پر دو سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کی وجہ سے ریاست بھر میں جاری تعمیراتی منصوبوں میں تیزی آ گئی ہے۔

اسی بارے میں