’مردہ‘ پولش خاتون سرد خانے میں ’زندہ‘ ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گھر واپسی پر یانینا نے سردی محسوس کرنے کی شکایت کی تو انھیں سوپ اور پین کیک دیے گئے

پولینڈ میں مردہ قرار دی جانے والی ایک 91 سالہ خاتون مردہ خانےمیں 11 گھنٹے گزارنے کے بعد واپس اپنے گھر پہنچ گئی۔

یعنینا یکاکووچ نے گھر واپس پہنچنے پر سردی کی شکایت کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے خاندانی ڈاکٹر نے طبی معائنے کے بعد انھیں مردہ قرار دے دیا تھا۔

تاہم جب یانینا کولکیاوچ کو مردہ خانے منتقل کیا گیا تو کچھ دیر بعد عملے کے ارکان ان کے جسم کو حرکت کرتا دیکھ کر متوجہ ہوئے۔

پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولینڈ کے اخبار زیننک وسکودنی کی ویب سائٹ کے مطابق خاتون کا خاندان اور ڈاکٹر اس واقعے پر صدمے میں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق خاتون کی بھانجی جب صبح گھر آئیں تو انھیں لگا کہ یانینا حرکت نہیں کر رہی ہیں اور نہ ہی ان کی سانس چل رہی ہے۔ اس تشویش پر انھوں نے خاندان کے ڈاکٹر کو بلایا تو انھوں نے تفصیلی طبی معائنے کے بعد خاتون کو مردہ قرار دے کر موت کا سرٹیفیکٹ بھی دے دیا۔

اس کے بعد یانینا کو مردہ خانے منتقل کر دیا گیا اور دو دن میں ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔

تاہم چند گھنٹے بعد مردہ خانے کے عملے نے یانینا کی بھانجی کو فون پر ان کے زندہ ہونے کی اطلاع دی۔

یانینا کےمطابق جب وہ واپس گھر پہنچیں تو انھوں نے اپنے رشتہ داروں کو بتایا کہ وہ ٹھیک ٹھاک ہیں، لیکن انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ قبر سے چند ہی قدم دور رہ گئی تھیں۔

گھر واپسی پر یانینا نے سردی محسوس کرنے کی شکایت کی تو انھیں سوپ اور پین کیک دیے گئے۔

یانینا کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق وہ حیران ہو گئے ہیں کہ آیا ہوا کیا کیونکہ خاتون کے دل نے دھڑکنا بند کر دیا تھا اور نہ ہی وہ سانس لے رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یقین تھا کہ ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔

یانینا کی بھانجی کے مطابق ان کی خالہ کو کچھ معلوم نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا کیونکہ وہ دماغی خلل کی بیماری ڈیمینشیا کے آخری مرحلے پر ہیں۔

اسی بارے میں