نائجیریا: بوکوحرام نے چیبوک شہر پر’قبضہ کر لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ابوبکر شیکاؤ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تنہائی پسند اور نڈر انسان ہیں اور پیچیدہ شخصیت کے مالک ہیں

نائجیریا کے شمال مشرقی شہر چیبوک کے رہائشیوں کے مطابق بوکوحرام کے شدت پسندوں نے شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔

بوکوحرام نے اسی شہر سے اپریل میں سکول کی 200 سے زائد طالبات کو اغوا کیا تھا۔

ریاست بورنو کے شہر چیبوک سے فرار ہونے والے شہریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی شام کو شدت پسندوں نے حملے کر کے شہر پر قبضہ کر لیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بوکو حرام کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

ابوبکر شیکاؤ کی سربراہی میں سرگرم تنظیم بوکوحرام اس سے پہلے چیبوک کے اطراف میں دیہاتوں پر متعدد بار حملے کی چکی ہے۔

ایک دوسری واقعے میں پولیس کا کہنا ہےکہ جمعے کو شمالی شہر کانو میں ایک پیٹرول سٹیشن پر خودکش بم حملے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایک سینیٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چیبوک میں عیسائی آبادی اکثریت میں ہے اور یہاں تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکار بوکوحرام کے حملے کے وقت فرار ہو گئے۔

شہر کے رہائشیوں نے صحارا رپورٹرز ویب سائٹ کو بتایا کہ شدت پسندوں نے شہر کے وسط میں پہنچنے پر اعلان کیا کہ وہ اس شہر کو اپنی خلافت کا حصہ بنا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی فورسز ملک کے شمالی مشرقی علاقوں کا دفاع کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوئی ہیں

چیبوک شہر کا دفاع کرنے والے موسیٰ علی کے مطابق شدت پسندوں نے دو گروپوں میں شہر پر حملہ کیا اور ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکے کیونکہ وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔

’تمام سکیورٹی اہلکار اور فوجی شدت پسندوں پر ایک بھی گولی چلائے بغیر ہمیں شہر میں تہنا چھوڑ کر بھاگ گئے۔اس کے بعد ہمارے پاس اسلحے کا جتنا بھی ذخیرہ تھا وہ ختم ہو گیا اور ہمارے پاس شہر کا دفاع کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔‘

نائجیریا میں بی بی سی کے نامہ نگار ویل روز کے مطابق ملک کی فوج متعدد بار شمال مشرقی علاقوں کے شہروں اور دیہاتوں کا دفاع کرنے کا ناکام رہی ہے اور اس وجہ سے بوکوحرام اپنے زیر قبضہ علاقے میں تسلسل سے اضافہ کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ نائجیریا میں ہر آنے والے ہفتے میں بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے تاہم سیاسی قیادت کی زیادہ توجہ آئندہ سال کے انتخابات پر مرکوز ہے۔

بوکوحرام نے حالیہ ہفتوں میں نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں کئی قصبوں اور دیہات پر قبضہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چیبوک سے ہی اغوا کی جانے والی اغوا کی جانے والی 200 سے زیادہ سکول کی طالبات اب بھی بوکو حرام کی تحویل میں ہیں

سنہ 2009 میں مسلح بغاوت کے آغاز کے بعد سے نائجیریا کی حکومت بوکوحرام پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی ملک کے شمال مشرقی قبصے پوٹسکم میں واقع سکول میں خودکش بم حملے میں ہلاک ہونے والے کم از کم 47 طلبہ کے رشتہ داروں نے علاقے میں سکیورٹی کے نامناسب انتطامات کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہوئے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو اب شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خلاف جنگ میں سنجیدگی دکھانا ہو گی کیونکہ معاملات ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔

بوکو حرام کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اس وقت آواز اٹھائی گئی تھی جب انھوں نے چیبوک شہر سے 14 اپریل کو 200 سے زیادہ طالبات کو اغوا کر لیا تھا جبکہ امریکہ، چین، برطانیہ اور فرانس ان لڑکیوں کی بازیابی میں نائجیریا کی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔

اغوا کی جانے والی 200 سے زیادہ سکول کی لڑکیاں اب بھی بوکو حرام کی تحویل میں ہیں۔

اسی بارے میں