’ماحولیاتی تبدیلیوں سے زیادہ آسمانی بجلی گرے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محققین نے حساب لگایا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں ایک ڈگری اضافے سے آسمانی بجلی کے گرنے کے واقعات 12 فیصد سے بڑھ جائیں گا

ایک امریکی تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ میں آسمانی بجلی کا پتہ چلانے والے آلات سے حاصل کردہ ڈیٹا پر مبنی یہ تحقیق سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔

اس ٹیم کا کہنا ہے کہ اس نے حساب لگایا ہے کہ درجہ حرارت کے ہر ڈگری کے اضافے سے بجلی گرنے کے واقعات میں کتنا فرق آیا ہے۔

کیلی فورنیا کی برکلی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ رومپس نے کہا: ’اگر سنہ 2000 میں بجلی دو مرتبہ گری تو سنہ 2100 میں تین مرتبہ گرے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ جنگلوں میں آگ لگانے کے ساتھ ساتھ بجلی کے گرنے سے ماحول کی اجزائے ترکیبی میں بھی تبدیلی آئے گی۔

امریکی ٹیم نے درجہ حرارت اور بجلی کے طوفانوں کے رشتے کو سمجھنے کے لیے ایک نیا طریقہ اپنایا ہے، جو بجلی کے بادلوں کو اختیار دینے والی گرم توانائی کے ایندھن کی پیمائش کرتا ہے۔

پروفیسر ڈیوڈ نے کہا: ’جیسے جیسے ہمارا سیارہ گرم ہوتا جاتا ہے، تو اس قسم کا ایندھن ماحول میں آئے گا۔ اور جب کوئی طوفان آئےگا تو وہ زیادہ طاقتور ہوگا۔

انھوں نے اور ان کی ٹیم نے حساب لگایا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کے اضافے سے آسمانی بجلی کے گرنے کے واقعات کی شرح 12 فیصد سے بڑھ جائے گی۔

جب بھی آسمانی بجلی گرتی ہے تو ایک کیمیائی ردعمل کے ذریعے یہ تھوڑی ’گرین ہاؤس‘ گیس جس کو ’نائٹروجن آکسائڈ‘ کہتے ہیں جاری کرتی ہے۔

آسمانی بجلی اس گیس کے کنٹرول کے ذریعے بالواسطہ طور پر ’اوزون‘ اور’میتھین‘ جیسی دوسری گرین ہاؤس گیسوں کو بھی جاری ہوتی ہیں۔

برطانیہ کے محکمۂ موسمیات کے ایک سائنسدان نے کہا کہ مستقبل میں بجلی گرنے کے واقعات کو سمجھنا ضروری ہے لیکن امریکی محققین کے طریقوں میں ابھی بھی کچھ غیر یقینی چیزیں ہیں جن پر مزید تجربات کرنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر ڈیوڈ نے کہا کہ اس صدی میں اگر ہمارا سیارہ حسبِ توقع چار ڈگری سے مزید گرم ہو جاتا ہے تو بجلی کا زیادہ گرنا ’ہماری لیے سب سے کم پریشانی ہو گی۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمارے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک بہت بڑا حصہ آ جائے گا جو اگلے ایک لاکھ سالوں کے لیے رہے گا۔ ہم اگلی نسلوں کے لیے یہ میراث چھوڑ کر جائیں گے۔‘

اسی بارے میں