’امیگریشن قوانین میں اصلاحات رواں برس ہی ہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر براک اوباما کوامیگریشن قوانین میں اصلاحات کے سلسلے میں اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک کے امیگریشن نظام میں واضح تبدیلیاں لانے والے ہیں۔

انھوں نے اس معاملے میں کانگریس پر کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ رواں برس میں ہی اس بارے میں فیصلہ کر لیں گے۔

امریکہ: امیگریشن قوانین میں ترمیم موخر

براک اوباما کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز اور فاکس نیوز کے مطابق صدر اوباما بعض امریکی شہریوں کے والدین کو ملک بدر ہونے سے بچانے کے پروگرام کی مدت میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

امیگریشن کے نظام میں اصلاحات کرنے سے مجموعی طور پر امریکہ میں بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم 50 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا۔

تاہم امریکہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت رپبلکن پارٹی کے ارکانِ کانگریس کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا صدر کے اختیار میں نہیں ہے۔

برما کے دورے کے دوران جمعے کو رنگون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سوال پر براک اوباما نے کہا کہ انھوں نے ایوانِ نمائندگان کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ دیا کہ وہ امیگریشن کے معاملے پر قانون سازی کریں لیکن ارکان ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں کہہ چکا ہوں کہ اگر کانگریس اس بارے میں کام نہیں کرتی تو میں نظام کی بہتری کے لیے اپنے تمام قانونی اختیارات استعمال کروں گا اور یہ اب اس سال کے خاتمے سے پہلے ہوگا۔‘

براک اوباما نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہی کانگریس اس سلسلے میں قانون سازی کرے گی تو وہ قانون ان کے احکامات کی جگہ لے لے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان اصلاحات سے امریکہ میں بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم 50 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا

تاہم رپبلکن پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ صدر کو اس معاملے پر کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔

امریکی سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے قائد مچل مکونل نے بھی صدر پر زور دیا ہے کہ وہ ’ہمارے ساتھ مل کر ہمارے امیگریشن نظام میں بہتری کے لیے راستہ تلاش کریں‘

ادھر ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بوہینر نے کہا ہے کہ ’اگر صدر اس راہ پر چلتے ہیں تو ہم اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔‘

اس سے قبل گذشتہ ہفتے سپیکر بوہینر نے کہا تھا اگر صدر اوباما نے یکطرفہ اقدام اٹھایا تو اس صورت میں امیگریشن اصلاحات کو کانگریس کے اندر طے کرنے کا امکان ختم ہو جائے گا۔

’اگر آپ ماچس سے کھیلیں گے تو اس سے خود جھلسنے کا خطرہ مول لیتے ہیں، اور اگر وہ اسی راستے پر چلتے رہے تو وہ اپنے آپ کو جلانے جا رہے ہیں۔‘

امریکی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق صدر اوباما اس منصوبے میں توسیع کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت امریکہ میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہونے والے نابالغ افراد کو ملک بدر کرنے سے بچایا جا سکے۔

اس کے علاوہ اس منصوبے میں ان بچوں کے والدین کو بھی شامل کیے جانے کا منصوبہ ہے جو امریکی شہری ہیں یا قانونی طور پر امریکی رہائشی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریپبلکن پارٹی کے علاوہ اوباما کی اپنی جماعت کے کچھ ارکان بھی ان کے خصوصی اختیارات کے استعمال کے حامی نہیں

اس منصوبے کا مقصد ملک بدری کی وجہ سے خاندانوں کو منقسم ہونے سے بچانا ہے۔ تجویز کردہ پالیسی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ کون کتنے عرصے سے امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر انتطامیہ منصوبے کو دس سال سے امریکہ میں رہائش پذیر افراد تک محدود کرتی ہے تو اس صورت میں 25 لاکھ افراد کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔

اپوزیشن کے علاوہ صدر اوباما کو اپنی جماعت کی جانب سے بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیئر سینیٹر ہیری ریڈ نے صدر اوباما پر زور دیا ہے کہ 11 دسمبر کو کانگریس سے حکومتی بجٹ کی منظوری کے بعد ہی وہ یہ قدم اٹھائیں۔

اس سے پہلے صدر براک اوباما نے جون میں وعدہ کیا تھا کہ امیگریشن قوانین میں اصلاحات کے سلسلے میں اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کریں گے لیکن انھوں نے ستمبر میں قوانین کی حمایت کا ارادہ وسط مدتی انتخابات تک ترک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

صدر براک اوباما گذشتہ کئی برسوں سے امریکہ کے امیگریشن قوانین میں بہتری لانے کے وعدے کر رہے ہیں، لیکن کانگریس میں رپبلکن پارٹی کے اراکین کی مخالفت کی وجہ سے صدر کو اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں