جنگجو برطانوی شہریوں کی وطن واپسی پر پابندی کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ PRESS ASSOCIATION
Image caption برطانوی حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بل آئندہ برس کے آغاز میں قانون کی شکل اختیار کر لے گا

برطانوی حکومت ایسا قانون متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت بیرونِ ملک جا کر جنگ میں حصہ لینے والے برطانوی شہریوں کو واپس برطانیہ آنے سے روکا جا سکے گا۔

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مطابق ایسا ’سپیشل ایکسلوژن آرڈر‘ کے تحت ممکن ہوگا جس کی مدت کم از کم دو برس ہوگی۔

اس قانون کے تحت واپس آنے والے ’جہادی‘ اگر اپنی سخت نگرانی پر اتفاق نہیں کرتے تو انھیں ملک میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ حکام کو ایسے افراد کو برطانیہ چھوڑنے سے روکنے کا اختیار بھی ہوگا جن پر بیرونِ ملک جا کر جنگ میں شرکت کا شبہ ہوگا۔

ماہرین نے ان اقدامات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں جبکہ حزبِ مخالف کی جماعت لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں ریڈیکلائزیشن روکنے کے لیے مزید اقدمات درکار ہیں۔

برطانیہ میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا حکم انسدادِ دہشت گردی کے اس قانون کا حصہ ہے جو رواں ماہ کے اختتام سے قبل شائع کیا جانا ہے۔

برطانوی حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بل آئندہ برس کے آغاز میں قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

’ٹیمپریری ایکسلوژن آرڈر‘ یا عارضی خارجی حکم نامے کا منصوبہ وزیرِ اعظم کی جانب سے ستمبر میں انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین کے اعلان کے بعد حکومت اور اتحادی جماعتوں کی بات چیت کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت عراق اور شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑنے والے برطانوی شہریوں کو دوبارہ ملک میں داخلے کی اجازت صرف اسی صورت میں ملے گی جب وہ سرحد پر خود کو قانون کے حوالے کر دیں۔

اس کے علاوہ ان مشتبہ افراد کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے جائیں گے اور ان کا نام ’نو فلائی لسٹ‘ میں شامل کر کے انھیں دوبارہ ملک چھوڑنے سے بھی روک دیا جائے گا۔

یہ پابندی دو برس کے لیے ہوگی اور اس میں اضافہ بھی کیا جا سکے گا جبکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔

نئے قانون کے تحت پولیس اور سرحدی فورس نابالغ افراد سمیت ایسے لوگوں کے پاسپورٹ ضبط کر سکیں گی جن پر دہشت گردی کے لیے ملک سے باہر جانے کا شبہ ہو گا۔ یہ ضبطی 30 دن کے لیے ہو سکےگی جس کے بعد معاملہ میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا لازمی ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برطانیہ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد اس وقت شام میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے ہیں

جی 20 اجلاس کے لیے آسٹریلیا میں موجود برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کینبیرا میں آسٹریلوی پارلیمان سے خطاب میں اس قانون کی تفصیلات فراہم کیں۔

اس موقعے پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایسے غیر ملکی جنگجوؤں سے خطرہ ہے جو ہمارے اپنے عوام کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پولیس کو دیے جانے والے نئے اختیارات میں پاسپورٹوں کی ضبطی، مشتبہ افراد کو ملک چھوڑنے سے روکنا اور برطانوی شہریوں کو اسی صورت میں واپسی کی اجازت دینا ہے کہ وہ ہماری شرائط پوری کریں۔‘

بی بی سی کے سیاسی امور کے نامہ نگار روبن برانٹ کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون متنازع ہے اور ملک میں شہریت، امیگریشن اور حقوقِ انسانی کے موجودہ قوانین میں اس کے کارگر ہونے پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

ان کے مطابق اس قانون کے ناقدین کو خدشہ ہے کہ جن برطانوی شہریوں کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر وطن میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، وہ بےریاست شہری بن جائیں گے۔

اسی بارے میں