’سکیورٹی کا انحصار چھوٹے ممالک کو ہراساں کرنے پر نہیں ہونا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایشیا پیسفک میں اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے عہد پر کوئی شبہہ نہیں کیا جا سکتا:براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایشیا کی سکیورٹی کا انحصار بڑے ممالک کی جانب سے چھوٹے ممالک کو حراساں کرنے پر نہیں بلکہ باہمی اتحاد اور بین الاقوامی قوانین پر ہونا چاہیے۔

صدر براک اوباما نے برزبین میں طلبہ سے باتیں کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ واضح رہے کہ وہ آسٹریلیا کے شہر برزبین میں ہونے والی دو روزہ جی 20 سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے لیے وہاں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایشیا پیسفک میں اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے عہد پر ’کوئی شبہہ‘ نہیں کیا جا سکتا۔

سنیچر کو کوئینز لینڈ یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب میں صدر براک اوباما نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ایشیا کی سکیورٹی کا نحصار دباؤ ڈالنے، زبردستی کرنے اور بڑے ممالک کا چھوٹے ممالک کو ہراساں کرنے پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا انحصار، باہمی سکیورٹی کے لیے بنائے گئے اتحاد، بین الاقوامی قوانین اور روایات پر ہونا چاہیے جس کی پاسداری کی جاتی ہے۔،

صدر براک اوباما نے کہا کہ یوکرین کے خلاف روس کی ’جارحیت پوری دنیا کے خطرہ ہے۔‘ انھوں نے اپنی بات کے ثبوت کے طور پر یوکرین کے حدود میں گرنے والے ملیشیا ائیر لائن کے طیارے ایم ایچ 17 کو پیش کیا۔

عالمی تنظیم جی 20 کے سربراہی اجلاس کے پہلے دن رکن ممالک کے رہنما آسٹریلیا کے شہر برزبین میں آج ملاقات کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جی20 ممالک میں ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر معیشت والے ممالک شامل ہیں

دو دنوں پر مشتمل اس اجلاس میں امریکہ، چین اور روس کے سربراہان کے علاوہ 17 ممالک کے رہنما حصہ لے رہے ہیں اور وہ معاشی ترقی کے فروغ پر بات چیت کریں گے۔

سربراہی اجلاس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس اجلاس میں شریک ممالک پر زور دے کر کہا ہے کہ وہ اس میں یوکرین کے بحران اور ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات جیسے مسئلے ساتھ ساتھ ماحولیات میں تبدیلی پر بھی غور و خوض کریں۔

اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن کو بعض مغربی ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے روس کی فوجی کارروائی میں اضافے کے نتیجے میں سخت رویے کا سامنا رہے گا۔

جی 20 سربراہی اجلاس سے پیشتر صدر پوتن نے کہا کہ امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کے حوالے روس پر لگائی جانے والی پابندیوں سے صرف روس کو ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا۔

آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ ’عالمی رہنما اس سربراہی اجلاس کا استعمال روزگار کے مواقع پیدا کرنے ٹیکس کی چوری کرنے والوں کی نشاندہی کرنے اور عالمی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے کریں گے۔‘

واضح رہے کہ جی20 ممالک میں ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر معیشت والے ممالک شامل ہیں۔

اس سے قبل فروری میں جی 20 کے وزرائے خزانہ کے اجلاس کے دوران آئندہ پانچ برسوں میں عالمی سطح پر معاشی ترقی میں دو فی صد کے اضافے کی بات کہی گئی تھی۔ امید کی جاتی ہے کہ اس ہدف کو سربراہی اجلاس میں منظور کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روسی صدر ولادی میر پوتن کو بعض مغربی ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے روس کی فوجی کارروائی میں اضافے کے نتیجے میں سخت رویے کا سامنا رہے گا

ٹونی ایبٹ نے کہا: ’یقیناً میری یہی خواہش ہوگی کہ اس میں معاشی اصلاحات کی سیاست پر توجہ مرکوز کی جائے۔ اخیر میں یہی کہوں گا کہ آپ جس مسئلے کو اٹھانا چاہیں اور جس موضوع پر بات کرنا چاہیں یہ اس کے لیے تیار ہے۔

برزبین میں موجود ہماری نمائندہ لنڈا یوئہ کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ ایجندہ عالمی معیشت ہے تاہم اس میں شامل لوگ یوکرین، ایبولا کے پھیلاؤ اور ماحولیاتی تبدیلی پر بھی بات کرنا چاہیں گے۔

اس سے قبل آسٹریلوی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے نے ملک سے باہر لڑنے والے جہادیوں سے نمٹنے کے متعلق بات کی تھی۔

جبکہ جاپانی وزیر اعظم شنزو ابے نے جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مزید قریبی دفاعی تعلقات استوار کرنے پر زور دیا ہے۔

اس موقعے پر کوئنس لینڈ ریاست میں جہاں برزبین شہر ہے، سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور تقریباً 6000 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

جبکہ 27 مختلف گروپوں کو برزبین کے کانوینشن اور ایگزیبیشن سینٹر کے پاس ایک خاص مقام پر مظاہرہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ واضح رہے کہ اس سینٹر میں جی 20 کا سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔

جمعرات کو ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق احتجاج کرتے ہوئے تقریباً 200 افراد نے بوندی بیچ پر ریت میں منھ ڈال کر مظاہرہ کیا ہے۔

اسی بارے میں