تیل سے قبل موتیوں کی تلاش رہتی تھی

Image caption 1939 میں کویت میں موتی ڈھونڈنے والے یوسف کا قصہ آسٹریلیائی سیاح ایلن ویلیئرز نے اپنی کتاب ’سند باد کے بیٹے‘ میں تحریر کیا

آج کی عرب دنیا کا تصور کیا جائے تو تیل سے مالامال ایک مالدار خطے کا تصور ذہن میں آتا ہے۔

لیکن ایک صدی سے بھی کم وقت قبل، عرب ممالک میں ابھی تیل دریافت نہیں ہوا تھا۔

میتھیو ٹیلر لکھتے ہیں کہ یہ ایک غریب خطہ تھا اور یہاں کا ذریعہ معاش گہرے پانیوں میں موتی ڈھونڈنا تھا۔ سامراجی آقاؤں کی سختی اور آپس میں کاروباری مقابلے کے باعث قیمتیں کم ہونے سے موتی ڈھونڈنے کے اس کام کو کافی نقصان پہنچا تھا۔

یوسف اپنی ٹوکری اٹھائے، پانی میں چھلانگ لگانے کے لیے تیار تھا۔ اس نے گہرے پانی میں چھلانگ لگائی اور آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

Image caption مئی اور ستمبر کے درمیان کویت، بحرین، دوبئی اور ابوظہبی سے لکڑی کی بنی ہوئیں سینکڑوں کشتیاں موتی تلاش کرنے بحیرہ عرب کے سفر پر نکلتیں

سنہ 1939 میں کویت میں موتی ڈھونڈنے والے یوسف کا یہ قصہ آسٹریلیائی سیاح ایلن ویلیئرز نے اپنی کتاب ’سند باد کے بیٹے‘ میں تحریر کیا۔

وہ جتنا وقت پانی میں رہا، باہر خاموشی چھائی رہی۔ پھر اچانک کشتی سے بندھی ہوئی رسی سرکنے لگی اور کچھ دیر میں یوسف اوپر آ گیا۔

اس کی ٹوکری کیکڑوں سے بھری ہوئی تھی جب کہ اس کی آنکھیں پانی میں وقت گزارنے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھیں۔

ایلن ویلیئرز خوش قسمت تھا کہ اس نے موتی ڈھونڈنے کے اس فن کے خاتمے کے وقت کو کیمرے میں محفوظ کر لیا۔

1920 میں جاپان کے تیار کردہ مصنوعی موتی مارکیٹ میں آنا شروع ہو گئے تھے۔ ان کی کم قیمت اور خوبصورتی کے باعث بحریرہ عرب کے گرم پانیوں سے نکلنے والے موتیوں کی مارکیٹ کم ہوتی چلی گئی۔

Image caption یہ لوگ انتہائی مشکل حالات میں ہفتوں سمندر میں وقت گزارتے اور ان میں سے ہر کوئی مقروض تھا

موتیوں کی تلاش میں پانی میں جانا انتہائی دشوار اور مشکل عمل تھا۔ چھلانگ لگانے والا شخص پہلے اپنے پورے جسم پر تیل ملتا، پھر اسے دونوں کانوں میں روئی ٹھونسنا پڑتی۔ اس کے علاوہ انہیں ہاتھوں کی انگلیوں اور پیروں کو تیز اور نوک دار چٹانوں سے بچانے کے لیے ربڑ سے ڈھانپنا پڑتا۔

مئی اور ستمبر کے درمیان کویت، بحرین، دوبئی اور ابوظہبی سے لکڑی کی بنی ہوئیں سینکڑوں کشتیاں موتی تلاش کرنے بحیرہ عرب کے سفر پر نکلتیں۔

ان میں غوطہ خور ، انہیں کشتی سے کنٹرول کرنے والے اور ملاحوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی تھی۔ یہ لوگ انتہائی مشکل حالات میں ہفتوں سمندر میں وقت گزارتے۔

ان میں سے ہر کوئی مقروض تھا۔ موتی ڈھونڈنے والے کشتیوں کے کپتان کے مقروض ہوتے انہیں نفع کا ایک حصہ پہلے سے بطور قرض دے دیا جاتا۔

Image caption 1865 میں بحرین نے جسے موتیوں کے کاروبار کا مرکز سمجھا جاتا تھا، دور جدید کے مطابق تیس ملین پاؤنڈز کا کاروبار کیا

اگر اس سال زیادہ موتی نہ ملتے تو موتی ڈھونڈنے والے سال در سال قرضوں میں جکڑے رہتے۔

اسی طرح کپتان بڑے بڑے سوداگروں کے مقروض ہوتے اور قرضوں کا یہ سلسلہ ایک قطار کی شکل میں اوپر سے نیچے تک جاری رہتا۔

ہندوستان اور بھارت سے ان موتیوں کی مانگ نے اس کاروبار کو زندہ رکھا۔

1865 میں بحرین نے جسے موتیوں کے کاروبار کا مرکز سمجھا جاتا تھا، دور جدید کے مطابق تین کروڑ پاؤنڈز کا کاروبار کیا۔

1904 میں یہ کاروبار اپنے عروج پر تھا اور اس کی مالیت دس کروڑ پاؤنڈز کے قریب تھی۔

لیکن اس کے باوجود تنخواہوں اور کام کرنے کے حالات بد ترین رہے۔ کیونکہ حکمران خاندان اور سامراجی طاقت برطانیہ جدیدیت کے مخالف تھے۔

1930 میں برطانوی سفارت کار ہیو بسکو نے لکھا کہ سمندر میں ڈائیونگ سوٹ میں چھلانگ لگانا خطرے سے خالی نہیں۔

اس سلوک نے موتی ڈھونڈنے کے کاروبار کو عرب ممالک میں پنپنے نہیں دیا اور وہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث باقی دنیا سے پیچھے رہ گئے۔ ان کی ایک پوری نسل نے انتہائی غربت میں وقت گزارا۔

لیکن 1950 میں بڑے پیمانے پر تیل کی دریافت نے عربوں کی زندگی اور قسمت ہی بدل ڈالی۔

برٹش لائیبریری کے مارک ہوبز نے اس آرٹیکل کی تحقیق میں مدد کی ہے۔

’راؤنڈ دا بینڈ‘ برطانیہ کی ہندوستان اور خلیج پر حکمرانی کے قصے ہیں جو کہ برٹش لائیبریری کی دستاویزات پر مشتمل ہیں۔

اسی بارے میں