برازیل میں ’تین آدم خور‘ افراد کو 23 سال قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دنیا کے بہت سے ممالک میں توہم پرستی کے نتیجے میں انسان کو قربان کیا جاتا ہے

شمال مشرقی برازیل میں ایک جج نے تین افراد کو ایک خاتون کو جان سے مارنے اور پھر اس کا گوشت کھانے کے جرم میں 20 سے 23 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

جارج بیلتارو نیگرومونٹے دا سلوا کو 23 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ان کی اہلیہ ایزابیل کرسٹینا پائرس اور ان کی نوکرانی برونا کرسٹینا اولیویرا دا سلوا کو 20 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان تینوں پر مبینہ طور پر مقتولہ کے گوشت سے پیسٹری بناکر پڑوسیوں کو بیچنے کا الزام بھی ہے۔

اس دوران انھوں نے دو دیگر خواتین کے قتل کا اعتراف کیا ہے جس پر بعد میں سزا سنائی جائے گی۔وکیل دفاع نے کہا کہ وہ جمعے کو سنائی جانے والی سزا کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کریں گے۔

ان تینوں افراد کو سنہ 2012 میں اپریل کے مہینے میں گرانہونز شہر سے گرفتار کیا گيا تھا۔ سماعت کے دوران انھیں قتل، لاش چھپانے اور اس کی بے حرمتی کرنے کا مرتکب پایا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیل پولیس نے ان تین لوگوں کو اپریل سنہ 2012 میں گرفتار کیا تھا

مقامی میڈیا نے مقتولہ کا نام جیسیکا کمیلا دا سلوا بتایا ہے جو کہ ایک بے گھر خاتون تھیں اور ان کا برونا کرسٹینا سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔ انھوں نے اس خاتون کو اپنے گھر یہ لالچ دے کر بلایا کہ وہ ایک نینی (ملازمہ) کی تلاش میں ہیں۔

ان تینوں افراد نے عدالت میں اسے قتل کرنے اور پاک ہونے کی رسم کے تحت مقتولہ کا گوشت کھانے کی بات تسلیم کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ان کے گھر کے عقبی باغ میں انسانی جسم کے باقیات ملے جنھیں انھوں نے کھایا تھا۔

پولیس نے ان کے گھر سے 50 صفحات پر مشتمل نیگرومونٹے کی لکھی ایک کتاب ’ریویلیشن آف شیزوفرینک‘ یعنی دماغی مرض شیزوفرینیا کے ایک مریض کا انکشاف بھی برآمد کی۔ اس کتاب میں یہ لکھا گیا ہے کہ اسے جو آوازیں سنائی دیتی تھی وہ عورت کے قتل کرنے کے بعد غائب ہو جاتی تھیں۔

جب انھیں گرفتار کیا گيا تھا تو انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایسے گروپ کا حصہ ہیں ’جو دنیا کو پاک کرنا اور اس کی آبادی کم کرنا چاہتا ہے۔‘

اسی بارے میں