’کیسگ کا قتل خالص شیطانی کارروائی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کیسگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں گذشتہ سال شام میں یرغمال بنالیا گیا تھا اور دوران قید وہ اسلام لے آئے تھے

امریکی صدر براک اوباما نے دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں امریکی مغوی عبدالرحمان کیسگ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے’خالص شیطانی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

ادھر مقتول کے والدین نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا ’شامی عوام کے لیے اپنی محبت کی وجہ سے مارا گیا۔‘

اوباما نے مقتول عبدالرحمان المعروف پیٹر کیسگ کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی ہے۔

اس سے قبل انٹرنیٹ پر جاری ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اپنے زیرِ قبضہ مغوی امریکی امدادی کارکن کیسگ کو قتل کر دیا ہے۔

عبدالرحمان کیسگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس کا نام اسلام لانے سے پہلے پیٹر کیسگ تھا اور انھیں شام میں گذشتہ سال اغوا کیا گيا تھا۔

اس ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص کو خنجر لہراتے اور امریکی فوجیوں کو بھی اسی انجام کی دھمکی دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ویڈیو میں مبینہ طور پر شامی فوجیوں کے ایک گروپ کے سر قلم ہوتے بھی دکھائے گئے ہیں۔

براک اوباما نے جی 20 اجلاس سے واپسی پر اپنے بیان میں کہا کہ بطور امدادی کارکن کیسگ کی خدمات قابلِ تعریف تھیں اور ’انھیں ہم سے دور کر دینا ایک دہشت گرد گروپ کی جانب سے مکمل شیطانی عمل ہے جسے دنیا غیرانسانی قرار دے گی۔‘

عبدالرحمان کیسگ کے والدین ایڈ اور پاؤلا کیسگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اپنے بیٹے کی موت سے ان کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کیسگ کے والدین نے کہا کہ انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے جو اپنی زندگی انسانیت کو دے گیا اور وہ اس کی یاد اور ورثے کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے

ایڈ اور ان کی اہلیہ نے کہا کہ انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے جو اپنی زندگی انسانیت کو دے گیا اور وہ ’اس کی یاد اور ورثے کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

پیٹر کیسگ کے ایک ساتھی قیدی نے پیٹر کے نام کی تبدیلی کے بارے میں بتایا تھا کہ اور وہ اب ’عبدالرحمٰن کیسگ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

پیٹر کیسگ کے ایک ساتھی قیدی کا کہنا ہے کہ وہ 26 سالہ عبدالرحمٰن کیسگ کو ان دنوں سے جانتے ہیں جب وہ پہلی مرتبہ شام اور ترکی کی درمیانی سرحد پر ملے تھے اور دونوں نے امدادی کام کا آغاز کیا تھا۔

عبدالرحمان قید سے اپنےگھر والوں تک ایک خط پہنچانے میں کامیاب ہوئے جس میں ان کا کہنا تھا: ’جہاں تک میرے ایمان کا تعلق ہے، تو میں ہر روز نماز پڑھتا ہوں اور اس لحاظ سے میں اپنی قید سے پریشان نہیں ہوں۔اگرچہ عقیدے کے لحاظ سے آج کل مجھے تھوڑی پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا ہے، لیکن میں اپنے عقیدے سے مطمئن ہوں۔‘

عبدالرحمٰن کے والدین اپنے بیٹے کے ان الفاظ سے یہی مطلب لیتے ہیں کہ وہ مسلمان ہو چکا ہے۔

رواں سال اکتوبر میں دولت اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں برطانوی رضاکار ایلن ہیننگ کے قتل کو دکھایا گیا تھا اور اس ویڈیو کا اختتام کیسگ کی موت کی دھمکی پر ہوا تھا۔

دولتِ اسلامیہ اب تک کیسگ کے علاوہ چار مغربی باشندوں کو ہلاک کر چکی ہے جن میں دو برطانوی ایلن ہیننگ اور ڈیوڈ ہینز جبکہ دو امریکی صحافی جیمز فولی اور سٹیون سوتلوف شامل ہیں۔

اسی بارے میں