انگلینڈ میں خاتون پادریوں کی تعیناتی منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس قانون سازی کی حتمی منظوری آرچ بشپ آف یارک ڈاکٹر جان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی

چرچ آف انگلینڈ نے قانون سازی کے ذریعے گرجا گھر میں خاتون پادری کی تعیناتی کی منظوری دی ہے جس کے بعد انگلینڈ میں کسی بھی خاتون پادری کی تعیناتی اگلے برس سے ممکن ہو سکتی ہے۔

اس ترمیم کی منظوری ارکانِ کلیسا کے ارکان نے اپنے اجلاس میں ہاتھ کھڑے کر کے دی۔

انگلینڈ میں سنہ 1994 میں پہلی خواتین پادریوں کو مقرر کیا گیا تھا تاہم وہ آج تک چرچ کا سب سے سینیئر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

آرچ بشپ آف کنٹبری جسٹن ویلبی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’گرجا گھر کے لیے ایک نئے راستے کا آغاز ہے۔‘

ارکانِ کلیسا نے گرجا گھروں میں خواتین پادری کی تعیناتی کے منصوبے کی منظوری جولائی میں دی تھی۔

تاہم اس کمیٹی نے منگل کو ویسٹ منسٹر میں ہونے والے اجلاس میں اس قانون سازی کی حتمی منظوری دے دی۔

برطانوی پارلیمان اکتوبر میں اس قانون سازی کی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔

اس قانون سازی کی حتمی منظوری آرچ بشپ آف یارک ڈاکٹر جان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔

ووٹ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے بی بی سی کے مذہبی امور کے نامہ نگار کیرولین وائٹ کا کہنا تھا کہ اس طویل عمل میں بنیادی طور پر یہ علامتی مرحلہ تھا تاہم یہ واضح طور پر ایک انتہائی تاریخی اور اہم ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے اگرچہ ساؤتھ ویل اور ناٹنگھم میں پادریوں کی عمل داری کا دائرہ اختیار سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں تاہم اس بات کا اعلان جنوری سنہ 2015 سے پہلے نہیں کیا جائے گا۔

گلوسیسٹر، آکسفورڈ اور نیو کیسل میں پادریوں کی عمل داری کا دائرہ اختیار سے نئے پادیوں کا بہت جلد انتخاب کیا جائے گا۔

اس مہم کے کارکنوں نے اس فیصلے کو خوش آیند قرار دیا ہے جو گرجا گھروں میں خواتین کے کردار کو بڑھانے کے حق میں تھے۔

اسی بارے میں