برڈ فلو روکنے کے لیے نئے حفاظتی اقدامات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یورپی کمیشن نے برطانیہ اور ہالینڈ میں برڈ فلو کے نئے کیسوں کی اطلاع سامنے آنے کے بعد اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے نئے حفاظتی اقدامات کو اپنایا ہے۔

ان اقدامات میں متاثرہ علاقوں میں جانوروں کو ہلاک اور ان علاقوں سے پولٹری مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کرنا شامل ہیں۔

ہالینڈ کی حکومت نے ایک پولٹری فارم میں ’انتہائی متعدی‘ ایچ فائیو این ایٹ کی موجودگی کی اطلاع دی ہے۔

برطانيہ ميں بھي ايک فارم پر برڈفلو کے بعد پولٹري کو تلف کيا گيا تاہم یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ يہ وائرس متعدي نہيں تھا۔

يورپي کمیشن کے مطابق برڈ فلو وائرس کي يہ قسم انسانوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے

یورپی یونین کےحکام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جرمنی میں پائے جانے والے وائرس کو برڈ فلو کے پھیلنے سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس موسمِ سرما میں جنگلی پرندوں کی جنوب کی جانب منتقلی کے دوران برڈ فلو پھیل سکتا تھا تاہم ان تین کیسوں کےدرمیان کسی بھی تعلق کی تصدیق کرنے کے لیے ٹیسٹ جاری ہیں۔

یورپی کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ اور نیدرلینڈ پہلے ہی متاثرہ پولٹری مصنوعات کی فروخت، زندہ پرندوں کی فروخت پر پابندی اور حفاظتی زونز بنانے پر زور دے رہے ہیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کو فوری طور پر کنٹرول کرنے، متاثرہ رکن ممالک سے دیگر رکن ممالک میں برڈ فلو کے پھیلاؤ کو روکنے اور تیسری دنیا کے ممالک کو اس بیماری سے بچانے کے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ڈچ حکام نے ہیکن ڈراپ کے گاؤں کے متاثرہ فارم میں 150،000 مرغیوں کو تلف کر دیا تھا۔

ڈچ حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے برڈ فلو انفلوئنزا پرندوں کی زندگی کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہے اور یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔

نیدر لینڈ کی معاشیات کی وزارت کا کہنا ہے کہ انسانوں میں برڈ فلو متاثرہ جانوروں کے بہت زیادہ قریب جانے سے منتقل ہو سکتا ہے۔

نیدر لینڈ حکام نے ملک بھر میں متاثر پولٹری اور انڈوں کی نقل و حرکت پر تین دن کی پابندی عائد کر دی ہے۔

اسی بارے میں