’بے ریاست‘ مبینہ شدت پسند کی آخری اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانیہ آمد کے چھ سال بعد بی2 اور ان کے والدین کو برطانوی شہریت دے دی گئی تھی

اسلام قبول کر لینے والے ایک مبینہ شدت پسند برطانوی شہری نے حکومت کے ’بےریاست‘ کیے جانے کے فیصلے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مذکورہ شخص کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے صرف ’بی2‘ کا نام دیا گیا ہے، اور اس سے سنہ 2011 میں برطانوی شہریت واپس لے لی گئی تھی۔ وزیر داخلہ نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس شخص کی مبینہ شدت پسندانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اسے شہریت سے محروم کر دیا تھا۔

اب سپریم کورٹ کے جج کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا واقعی برطانوی شہریت واپس لیے جانے کے بعد بی2 کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں بچی تھی۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی شخص کا ’بے ریاست‘ ہونا غیر قانونی ہے۔

سپریم کورٹ میں بی2 کی اپیل کی سماعت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پارلیمان میں اس متنازع تجویز پر بحث ہونے جا رہی ہے جس کے تحت وزیر داخلہ کو یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کی برطانیہ واپسی پر پابندی لگا سکیں گے جس کے بارے معلوم ہو کہ وہ بیرون ملک دہشت گردی میں ملوث رہا ہے۔

وزیر داخلہ ٹیریسا مے کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کسی ایسے شخص سے برطانوی شہریت واپس لے سکتی ہیں جس کے پاس کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی ہو اور اس نے بعد میں برطانوی شہریت بھی حاصل کر لی ہو۔

اپنی نوعیت کے اس انوکھے معاملے میں بی2 کی پیدائش ویت نام میں ہوئی تھی اور وہ 12 برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ برطانیہ آ گئے تھے۔

برطانیہ آمد کے چھ سال بعد بی2 اور ان کے والدین کو برطانوی شہریت دے دی گئی تھی۔ بی2 نے ایک کالج سے ڈیزائن اینڈ کمونیکیشن کی تعلیم حاصل کی اور پھر 21 سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا تھا۔

بی2 کے خلاف وزیر داخلہ کا مقدمہ یہ ہے کہ بی2 نے القاعدہ کی جزیرہ نما عرب میں قائم شاخ کی پیروی شروع کر دی تھی اور سنہ 2010 میں وہ اس وقت یمن چلے گئے تھے جب اس شاخ کے سربراہ یمنی نژاد امریکی مبلغ انور العولقی تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برسوں میں نہ صرف کئی بم دھماکوں کی منصوبہ بندی میں القاعدہ فی الجزیرۃ العرب (اے کیو اے پی) کا ہاتھ رہا ہے بلکہ اس تنظیم نے انگریزی زبان میں ’اِنسپائر‘ نامی ایک جہادی رسالے کا بھی آغاز کیا تھا جس کا بنیادی مقصدمغربی ممالک میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو جہاد کی ترغیب دے کر اپنی تنظیم میں بھرتی کرنا تھا۔

دسمبر 2011 میں وزیر داخلہ ٹیریسا مے نے بی 2 سے برطانوی شہریت واپس لے لینے کا حکم دیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ شخص دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

عدالت میں پیش کیے جانے والے کاغذات میںکہا گیا تھا کہ ملک کی خفیہ ایجنسی ’ایم آئی 5 ‘ کے تجزیے کے مطابق بی 2 ’سے برطانیہ اور اس کے رہنے والوں کی سکیورٹی کو اب بھی خطرہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویتنام کے اپنے قانون میں سقم ہے اور بی2 بے وطن یا بے ریاست نہیں ہے: وزیر داخلہ

اپنے پہلے حکم کے دو دن بعد وزیر داخلہ نے دوسرا حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں بی2 کو واپس ویتنام بھیجے جانے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے بعد بی2 کو ایک حفاظتی مرکز بھجوا دیا گیا تھا جہاں غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے اپنے ملک بھیجے جانے تک رکھا جاتا ہے۔

دوسری جانب ویتنامی حکومت اس سے انکار کرتی ہے کہ بی2 ان کا شہری ہے۔ لیکن برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ویتنام کے اپنے قانون میں سقم ہے اور بی2 بے وطن یا بے ریاست نہیں ہے۔

وزیر داخلہ کے برطانیہ سے بے دخلی کے حکم کے بعد بی2 نے اس فیصلے کے خلاف امیگریشن کے خصوصی کمیشن میں درخواست کر دی تھی جس میں ان کا موقف تھا کہ وہ ’بےریاست‘ ہو گئے ہیں۔

کمیشن نے بی2 کے موقف سے اتفاق کیا تھا، لیکن بعد میں وزیر داخلہ نے کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل جیت لی تھی۔

جب وزیر داخلہ شروع میں عدالت میں مقدمہ ہاری تھیں، تو حکومت نے پارلیمان سے درخواست کی تھی کہ وہ قانون میں ترمیم کرے تاکہ وزیر داخلہ کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ ایسے شخص سے بھی برطانوی شہریت واپس لے سکیں جس کے پاس اس وقت کسی دوسرے ملک کی شہریت ہو یا نہ ہو۔

امید ہے کہ بی2 کے مقدمے کی سماعت دو دن تک جاری رہے گی جس کے بعد عدالت اس اپیل پر فیصلہ صادر کرے گی۔

اسی بارے میں