’اسرائیلی وزیرِ خارجہ کو قتل کرنے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا‘

Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ میں کشیدگی کے دوران 2100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اسرائیل کے وزیرِ خارجہ کو راکٹ کے حملے کے ذریعے ہلاک کرنے کا منصوبہ بنانے کے الزام میں چار فلسطینیوں کوگرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت کے مطابق اس گروپ نے اس سال جولائی اگست میں غزہ اور اسرائیل کے مابین لڑائی کے دوران اسرائیل کے وزیرِ خارجہ اویگڈور لیبرمین کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

شین بیت کا کہنا ہے کہ ان افراد کا تعلق حماس سے ہے جو غزہ میں انتظامیہ چلاتی ہے۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اسے اس ’معاملے پر کوئی معلومات نہیں ہیں۔‘

گذشتہ موسمِ سرما میں یہ جنگ 50 دن تک جاری رہی جس کا اختتام طرفین کے درمیان صلح پر ہوا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس لڑائی کے دوران 2100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ لڑائی کے دوران اسرائیل کے 67 فوجی اور چھ عام شہری ہلاک ہوئے۔

شین بیت کے مطابق اس گروہ نے راکٹ کے ذریعے پھینکے جانے والے گرینیڈ یا آر پی جی خریدنے اور اس سے مقبوضہ غربِ اردن میں نوکدیم کی بستی میں اویگڈور لیبرمین کے گھر کے قریب ان کے کاروان کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ایجنسی کا کہنا تھا کہ اس گروپ نے وزیرِ خارجہ کے کاروان کی جاسوسی کی۔ اطلاعات کے مطابق اس گروہ نے ایک موزوں ٹھکانے سے کاروان پر حملہ کرنے کے لیے اس کے مختلف حصوں کے اوقاتِ سفر کا جائزہ لیا۔

شین بیت کے مطابق مشتبہ افراد میں تین، ابراہیم سلیم محمود الزیر، زید سلیم محمود الزیر اور عدنان محمود تسابیح غربِ اردن کے علاقے حرمالہ سے آئے تھے جونوکدیم سے تقربیاً ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ابراہیم سلیم محمود الزیر نے مبینہ طور منصوبہ تیار کیا اور اس مقصد کے لیے اپنے بھائی زید، عدنان محمود تسابیح اور بیت الحم کےعلاقے سے حماس کے رکن ابراہیم یوسف السیخ کو بھرتی کیا۔

شین بیت کا کہنا ہے کہ ان افراد کو دو ہفتے پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔

ایجنسی کے مطابق ان افراد کو امید تھی کہ وزیرِ خارجہ اویگڈور لیبرمین کو ہلاک کرنے سے ’اسرائیلی ریاست کو پیغام ملے گا جس سے غزہ میں جنگ بند ہو جائے گی۔‘

اسرائیلی وزیرِ خارجہ کو ہلاک کرنے کی سازش کے منصوبے کے بارے میں معلومات ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب اسرائیل اور حماس کے درمیان شدید کشیدگی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو یروشلم میں ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے میں پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے مقدس مقام حرم الشریف یا ٹیمپل ماؤنٹ کی وجہ سے بھی طرفین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں