امیگریشن اصلاحات کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا:اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رپبلکنز کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر قانونی طریقے سے امریکہ آنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ حزبِ مخالف کی کڑی تنقید کے باوجود امیگریشن پالیسی میں اصلاحات کا فیصلہ تبدیل نہیں کریں گے۔

جمعے کو اوباما نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک کی امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس سے امریکہ میں غیر قانونی طریقہ سے مقیم تقریباً 50 لاکھ لوگ ملک بدری سے بچ سکتے ہیں۔

اوباما کی امیگریشن اصلاحات کی شدید مخالفت

صدر اوباما کے اس فیصلے پر رپبلکن اراکین پارلیمنٹ نے سخت تنقید کی ہے۔

رپبلکن پارٹی کے رہنما اور امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بوہینر کا کہنا ہے کہ صدر اوباما ایک بادشاہ کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں۔

اس تنقید کے جواب میں لاس ویگاس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا: ’میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے، جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی یہ کیا جا چکا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب کانگریس میں رہنما امیگریشن پالیسی میں اصلاحات کا فیصلہ کرنے کے میرے حق پر سوال اٹھاتے ہیں تو میں ان سے یہی کہتا ہوں، آپ قانون منظور کر لیں۔ انہیں قانون سازی سے کوئی نہیں روک رہا۔‘

اس وقت امریکہ میں تقریبا ایک کروڑ دس لاکھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں۔ یہ لوگ غیر قانونی طریقے سے کام کرتے ہیں اور اپنی آمدن پر حکومت کو کوئی ٹیکس نہیں دیتے۔

امریکہ کی دونوں ہی مرکزی سیاسی جماعتیں اس معاملے میں بہتری چاہتی ہیں لیکن اصلاح کے طریقوں پر دونوں میں اختلافات ہیں۔

صدر اوباما نے رپبلکن جماعت کی جانب سے کانگریس میں اس بِل کو روکنے پر تنقید کرتے ہوئے مستقل اصلاحات کو حقیقت بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اوباما کا کہنا تھا کہ وہ امیگریشن اصلاحات کے حوالے سے کبھی ہار نہیں مانیں گے: ’ہم مستقل اصلاحات کو حقیقت بنانے کے لیے کانگریس کے ارکان کے ساتھ کام کرنے جا رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر کے اقدام سے 40 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن افراد کو ورک پرمٹ کے لیے درخواست دینے کی اجازت مل جائے گی۔

دوسری جانب رپبلکنز کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر قانونی طریقے سے امریکہ آنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

رپبلکن جماعت نے امریکی صدر کی جانب سے امیگریشن اصلاحات کے لیے ان کے خصوصی اختیارات استعمال کرنے پر تنقید کی تھی۔

امریکی ایوان نمائندگان کے رپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے سپیکر جان بوہینر نے جمعہ کو اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ ہم نے امیگریشن کے نظام کو تباہ کر دیا ہے اور امریکی عوام ہم سے توقع کرتے ہیں کہ اس کو ٹھیک کریں۔‘

امریکہ کی قدامت پسند پارٹی کے رہنما نے کہا کہ صدر اوباما نے یہ اعلان یک طرفہ طور پر ایک بادشاہ کی طرح کیا ہے اور جمہوری طرز عمل اختیار نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ گیارہ لاکھ تارکیں وطن امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں

سپیکر کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر کے ان اقدامات نے متفقہ قانون سازی کے امکانات کو تباہ کر دیا ہے اور انھوں نے اپنی صدارت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

صدر اوباما کی امیگریشن اصلاحات کے تحت 40 لاکھ غیر قانونی تارکیں وطن اب امریکہ میں کام کرنے کے اجازت نامے یا ورک پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔

لیکن رپبلکن سپیکر بوہینر کا خیال ہے کہ اس اعلان سے غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اوباما امریکی شہریوں کی خواہشات کو نہیں سمجھ سکے۔ انھوں نےکہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ صدر نے کانگریس کی مرضی کے خلاف فیصلہ کیا ہو۔

بوہینر کا کہنا تھا ’وہ سارا سال صدر کو متنبہ کرتے رہے ہیں کہ صحتِ عامہ کے قوانین کے بارے میں یک طرفہ فیصلہ کرنے اور امیگریشن قوانین کو صدارتی اختیارت استعمال کر کے نافذ کرنے کی دھمکیاں دینے سے وہ پارلیمان میں مل جل کر کام کرنے اور قانون سازی کرنے کے لیے ضروری اعتماد سازی کے عمل کو ناممکن بنا رہے ہیں۔‘

رپبلکن ارکان نے جمعے کو صدر اوباما کی ہیلتھ کیئر اصلاحات جنھیں عام زبان میں اوباما کیئر بھی کہا جاتا ہے کے کچھ حصوں کی قانونی حیثیت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

صدر اوباما کی امیگریشن اصلاحات کے تحت ایسے والدین جن کے پاس قانونی طور پر امریکہ میں رہائش کی دستاویزات نہیں ہوں گی مگر ان کے بچے قانوناً امریکی شہریت رکھتے ہوں گے وہ امریکہ میں تین سال کے لیے ورک پرمٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں