بحرین میں متنازع انتخابات، شیعہ گروپوں کا بائیکاٹ

Image caption اپوزیشن اتحاد نے ایک منتخب وزیرِ اعظم بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو شاہی الخلیفہ خاندان کے اثر سے آزاد ہو

خلیجی ملک بحرین میں سنہ 2011 کی حکومت مخالف احتجاجی لہر کے بعد پہلی بار پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

حکومت نے تمام سیاسی گروپوں کو سنیچر کو ہونے والے ان انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے کہا ہے لیکن حزبِ اختلاف کے شیعہ گروپ ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

ان گروپوں کا موقف ہے کہ یہ انتخابات ’مطلق العنان حکومت‘ قائم کرنے کی کوشش ہے۔

بحرین میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان خاندان کی بادشاہت ہے جبکہ اس کی آبادی کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

ملک میں تقربیاً تین لاکھ پچاس ہزار افراد ووٹ ڈالنے کے حقدار ہیں جو 266 امیدواروں میں سے 40 نمائندوں کو منتخب کریں گے۔ امیدواروں میں اکثریت سنی ہیں۔

حزبِ اختلاف کے گروپوں کے ایک اتحاد نے کہا کہ وہ سنیچر کو ہونے والے پارلیمانی اور میونسپل انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔

اپوزیشن اتحاد نے ان انتخابات کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔

اتحاد نے ایک منتخب وزیرِ اعظم بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو الخلیفہ خاندان کے اثر سے آزاد ہو۔ اس اتحاد میں اپوزیش کا سب سے بڑا گروپ الوفاق بھی شامل ہے۔

الوفاق کے رکن عبدالجلیل خلیل نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’یہ انتخابات ناکام ہی ہوں گے کیونکہ حکومت سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔‘

بحرین کے وزیرِ اطلاعات سمیرا ابراہیم بن رجب نے کہا کہ ’مذاکرات کے دروازے الوفاق سمیت کسی کے لیے کبھی بند نہیں ہوں گے‘ لیکن انھوں نے کہا کہ ’تشدد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ دہشت گردی کے مترادف ہے۔‘

سنہ 2011 میں ملک کے دارالحکومت مانامہ میں مظاہرین گلیوں میں نکل آئے اور زیادہ شہری حقوق کے لیے احتجاج کیا لیکن حکومت نے مظاہروں کو سعودی عرب کی عسکری مدد سے دبا دیا اور اختلافِ رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔

اس وقت حالات کو معمول پر لانے کے ہونے والے مذاکرات ناکام ہوئے اور کشیدگی جاری رہی۔

خیال رہے کہ بحرین امریکہ کے لیے دفاعی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور وہاں پر امریکی بحریہ کا پانچواں فلیٹ لنگر انداز ہے۔

ان انتخابات پر سعودی عرب کی بھی نظر ہوگی جس کے مشرقی صوبے میں شیعہ مسلمانوں کی کا بڑی آبادی ہے۔

اسی بارے میں