دو صدی قبل قتل کیا برطانیہ نے کرایا؟

تصویر کے کاپی رائٹ drouot million
Image caption رومیو کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک باصلاحیت شخص تھا

دو صدی قبل ایک بین الاقوامی جھگڑے کے وقت، کیا برطانیہ نے دشمن کے ایک ایجنٹ کو قتل کر دیا تھا جب دنیا کا دھیان کسی دوسری سمت لگا ہوا تھا۔ میتھو ٹیلر نے فارس میں سازش اور ممکنہ کمینگی کی اس کہانی کو کریدا ہے۔

ستمبر سنہ اٹھارہ سو پانچ میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان جنگ جاری تھی۔ نیپولین برطانیہ پر حملہ کرنے کے لیے بولونگ میں اپنی فوجیں جمع کر رہا تھا۔ بحیرہ احمر میں نیلسن نے فرانسیسی بیڑے کا رخ موڑا۔

اس کشیدگی کے دوران، خلیج فارس کے شہر بوشہر میں برطانوی ریزیڈنٹ ولیم بروس کے دفتر کو ایک خط موصول ہوتا ہے۔

اس خط میں خبردار کیا گیا کہ رومیو نام کا ایک فرانسیسی افسر ہے جس کی منزل ممکنہ طور پر مشرق ہے۔

’رومیو کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت باصلاحیت شخص ہے، اس کے پاس وافر مقدار میں رقم ہے اور وہ سائنس اور سازشیں کرنے میں کمال رکھتا ہے۔‘

یہ خط جو قسطنطنیہ میں برطانیہ سفیر الیگزنڈر سٹارٹن نے لکھا تھا بغداد میں برطانوی اہلکار بروس ہارفورڈ نے آگے بڑھایا تھا۔

اس پر تین ماہ قبل کی تاریخ درج تھی۔ اس ہی ڈاک میں جانز نے ایک اور مراسلہ جس میں پچیس جولائی درج تھا، کہا گیا تھا کہ رومیو فارس کی طرف سفر کے ارادے سے فارس میں سونا خریدتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

بروس نے اس پر تیزی سے حرکت کرتے ہوئے دوسرے ہی دن مسقط میں اپنے ماتحت کو رومیو کی موجودگی کے بارے میں خبردار کیا اور خلیجی بندرگاہوں کو ہدایت جاری کیں کہ اس شخص پر نظر رکھیں۔

رومیو کون تھا؟ اور وہ کیا کرنے والا تھا؟

مونٹپیلیئر یونیورسٹی کے ڈیویڈ ونسن نے لکھا ہے کہ انتونیو الیگزنڈر رومیو ایک مہم جو تھا۔ وہ فوج میں تھا اور اس کے بعد کرفو میں ایک جونیئر سفارت کار تھا۔ سنہ اٹھارہ سو چار میں چالیس برس کی عمرمیں وہ پیرس واپس آیا تاکہ کوئی بڑا کام کیا جا سکے۔

ظاہر ہے کہ وہ اپنا نام بنا چکا تھا۔ نیپولین نے اپنے وزیر خارجہ ٹیلی رینڈ کو رومیو کو فارس بھیجنے کو کہا تاکہ وہاں کی صورت حال اور اس کی طاقت کا اندازہ لگایا جا سکے اس کے علاوہ کہا کہ ’میں شاہ کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ science photo liberary
Image caption اس وقت ایران میں شاہ فتح علی کی حکومت تھی

نیپولین صرف برطانیہ سے نہیں لڑ رہا تھا۔ اس کو روسیوں اور آسٹرین کا بھی سامنا تھا اور مصر پر اس کے حملے نے سلطنت عثمانیہ سے بھی خیلج پیدا کر دی تھی۔ فارس ایک اچھا اتحادی ثابت ہو سکتا ہے روس کے خلاف ایک دفاع اور ہندوستان میں برطانوی مفادات پر ضرب لگانے کے لیے ایک پل۔ رومیو20 مئی کو قسطنطنیہ میں وارد ہوا اور برطانوی اس پر چوکنے ہوگئے اور سفارتی خطوط کا تبادلہ شروع ہوا جس میں بروس کو لکھے جانے والا خط بھی شامل تھا۔

ستمبر کی 27 تاریح کو جب یہ خط بروس تک پہنچا اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی۔

رومیو ایک قاتل سے بچ کر دو دن قبل تہران پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ فرانسیسیوں کے بقول اُس قاتل کو حلب میں برطانوی سفیر نے بھیجا تھا۔ برطانیہ نے فرانس کے اس الزام کی تردید کی اور ایک سفارتی جھگڑا شروع ہو گیا۔

اسی دوران 30 ستمبر کو رومیو کو شاہ کے سامنے پیش ہونے کا وقت مل گیا۔ فتح علی نے روس کے خلاف اتحاد بنانے کی پیش کش سے اتفاق کیا۔

لیکن رومیو اچانک بیمار پڑ گیا۔

تاریخ دان عرج امینی کے مطابق رومیو کو تین دن تک قے آتی رہی اور کپکپی طاری رہی اور پھر اس کا انتقال ہو گیا۔

اس کے ساتھ ہی یہ افواہیں پھیل گئیں کہ اسے زہر دیا گیا ہے۔ فرانس نے برطانوی سفیر کو مورد الزام ٹھہرایا۔ برطانیہ نے تردید کی اور فتح علی نے رومیو کو بغیر یہ معاملہ حل ہوئے دفنا دیا۔

دس دن بعد ہی برطانوی بیڑے نے نیلسن کی قیادت میں فرانس اور سپین کی بحریہ کو ٹریفالگر کے مقام پر شکست دی۔

فرانس اور فارس نے چار مئی اٹھارہ سو سات کو ایک معاہدے پر دستخط کیے لیکن یہ معاہدہ بے کار ثابت ہوا کیونکہ چند ہفتوں میں ہی نیپولین برطانیہ پر حملہ کرنے کے لیے روس کے ساتھ مل گیا۔

انیسویں صدی میں فرانس کے ایک سیاح نے تہران میں رومیو کے گنبد والے مقبرے پر جانے کی اطلاع دی۔ لیکن اب کسی کو معلوم نہیں کہ رومیو کہاں دفن ہے۔