جوہری معاہدے کے لیے حتمی مہلت میں اضافے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ اور جرمنی دونوں نے کہا ہے کہ طرفین ان کے درمیان موجود ’بڑی خلیج‘ کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں

امریکہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنے متنازع جوہری پروگرام پر عالمی قوتوں کے ساتھ جامع معاہدے کی ڈیڈ لائن یا حتمی تاریخ میں توسیع پر غور کرے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یہ تجویز اتوار کو آسٹریا کے شہر ویانا میں ہونے والی بات چیت میں اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کو دی۔

ایران نے جرمنی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک سے پچھلے برس ایک عبوری معاہدہ کیا تھا جسے جنیوا معاہدے کا نام دیا گیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت ایران نے یورینیئم کی افزودگی کسی حد تک روک دی تھی اور اس کے بدلے اس پر عائد پابندیاں جزوی طور پر نرم کی گئی تھیں۔

تاہم اس عبوری معاہدے کے تحت ایران اور چھ عالمی طاقتیں اس سال جولائی تک جامع معاہدہ کرنے میں ناکام رہی تھیں جس کے بعد اس معاہدے کے لیے حتمی تاریخ 24 نومبر مقرر کی گئی تھی۔

اب یہ ڈیڈ لائن بھی پیر کو ختم ہو رہی ہے مگر جامع اور حتمی معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔

ویانا میں مذاکرات میں شریک سفارتکار کہتے ہیں کہ بات چیت میں اب بھی سنگین خلا پائے جاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس معاملے پر بات چیت جاری رکھنے کے لیے نیا عبوری معاہدہ کیا جائے۔

فرانس کے وزیر خارجہ لوراں فیبیوس نے کہا ہے کہ’میں بات چیت کے نتیجے کا پہلے سے اندازہ نہیں لگاؤں گا مگر ہم مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ایک اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے آج رات تک کی ڈیڈ لائن ہے مگر ہونا یہ چاہیے کہ یہ عمل مثبت ہو اور ہم امن کے لیے کام کر سکیں۔ اب بھی ایسے اختلافات موجود ہیں جنھیں دور کرنا باقی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بات چیت میں شامل ممالک ایران سے اس بات کا مظاہرہ چاہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ جوہری اسلحہ نہیں بنا رہا

امریکہ اور جرمنی نے بھی کہا ہے کہ فریقین کے درمیان موجود ’بڑی خلیج‘ کو کم کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ’ ہماری مرکزی توجہ معاہدے کے قریب پہنچنے پر ہے لیکن یہ ایک قدرتی بات ہے کہ مہلت سے 24 گھنٹے پہلے ہم مختلف تجاویز پر بات کر رہے ہیں جن میں سے ایک مہلت بڑھانا بھی ہے۔‘

اس سے پہلے ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے بات چیت میں شامل ایک اہلکار کے حوالے سے بات تھا کہ’ پیر تک کسی معاہدے تک پہنچنا ناممکن ہے۔‘

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اب بھی بڑے خلا موجود ہیں اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا پیر تک کوئی معاہدہ ہوپائے گا یا نہیں۔

امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ’اچھی خبر یہ ہے کہ عبوری معاہدے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کی پیش رفت یقینی طور پر رک گئی ہے تو یہ کامیاب رہا ہے۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم زیادہ مستقل معاہدہ کرپائیں گے؟ اور اب بھی فریقوں کے درمیان خاصے اختلافات ہیں۔‘

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ اس معاملے پر کسی مستقل معاہدے کی کانگریس حمایت کرے گی؟ تو اُن کا جواب تھا کہ ’مجھے پورا اعتماد ہے کہ اگر ہم ایک ایسا معاہدہ کرتے ہیں جس کی تصدیق ممکن ہو اور جو یقینی بنائے کہ ایران اس سے پیچھے ہٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو نہ صرف میں کانگریس کو قائل کرسکتا ہوں بلکہ میں امریکی عوام کو بھی سمجھا سکتا ہوں کہ یہی صحیح قدم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران میں جوہری پروگرام کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی کو ملک کے اندرونی سیاست سے نمٹنا ہوگا اور ’ایران میں وہ حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے بلکہ ایسا کرنے والے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ہیں۔‘

گفتگو میں شامل ممالک ایران سے اس بات کا مظاہرہ چاہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ جوہری اسلحہ نہیں بنا رہا ہے جبکہ ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر توانائی سے متعلق ہے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے سنیچر کو کہا تھا کہ’ہم بہت محنت کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم احتیاط سے پیش رفت کر رہے ہیں لیکن ہمارے ہمارے درمیان بڑی خلیج موجود ہے جسے ہم کم کرنے کی کوشش میں ہیں۔‘

جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اب تک ہونے والی بات چیت کو ’تعمیری‘ قرار دیا لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں چھپانا چاہیے کہ ہمارے درمیان بہت سے پہلوؤں پر بڑی خلیج ہے۔‘

ویانا میں بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اگر کوئی سمجھوتہ ہو جاتا ہے اس سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بڑی تبدیلی آ جائے گی۔

Image caption ویانا میں بی بی سی کی نامہ نگار بتھانی بیل کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اگر کوئی سمجھوتہ ہو جاتا ہے اس سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بڑی تبدیلی آ جائے گی

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ابھی تک واضح نہیں کہ طرفین مشکل سیاسی فیصلے کر سکیں گے اور بعض مبصرین کے مطابق کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے شاید مزید وقت درکار ہو۔

دوسری جانب جوہری پروگرامز پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران اپنی مشتبہ فوجی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات دو کرے جو کہ اس کے جوہری پروگرام سے منسلک ہو سکتی ہیں۔

ایران نے آئی اے ای اے سے کہا تھا کہ وہ اگست تک اس بارے میں تفصیلات فراہم کرے گا تاہم اس نے ایسا نہیں کیا یہاں تک کہ معائنہ کاروں کو ایک اہم فوجی اڈے پارچن میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی۔

اسی بارے میں