ایبولا سے متاثر افراد کی لاشیں سر عام چھوڑ دی گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ bbc media action
Image caption موت کے بعد بھی ایبولا کا وائرس کچھ دیر تک جسم میں رہتا ہے اور اس دوران وہ دوسرے لوگوں میں منتقل ہو سکتا ہے

سیئرا لیون کے شہر کینیما میں گورکنوں نے ایبولا سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو سنبھالنے پر تنخواہ نہ ملنے پر احتجاج کرتے ہوئے لاشوں کو سر عام چھوڑ دیا ہے۔

احتجاجی کارکنوں نے شہر کے مرکزی ہسپتال میں لاشیں چھوڑ دیں۔

اطلاعات کے مطابق ایک لاش کو ہسپتال کے مینیجر کے دفتر کے باہر چھوڑ دیا گیا اور دو لاشوں کو ہسپتال کے داخلی دروازے کے باہر رکھ دیا گیا۔

سیئرا لیون ایبولا کی وبا سے متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے اور وہاں پر تقریباً 1200 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایبولا کے متاثرین کی لاشیں دفنانے والے کارکنوں کو اس وائرس سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

کینیما نہ صرف سیئرا لیون کا تیسرا بڑا شہر ہے بلکہ مشرقی افریقہ کا بھی اہم شہر ہے اور یہیں پر ایبولا کی وبا نے جڑیں پکڑی تھیں۔

ان کارکنوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ انھیں لاشیں دفنانے کے لیے اکتوبر اور نومبر میں اتفاق سے منظور کیے جانے والی اضافی خطرے کا الاؤنس ادا نہیں کیا گیا۔

فری ٹاؤن شہر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اومارو فوفانہ کا کہنا ہے کہ لاشیں اب اٹھا لی گئی ہیں لیکن کارکنوں کا احتجاج اب بھی جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

ہسپتال یا سیئرا لیون کی وزارتِ صحت کی جانب سے اس سلسلے میں اب تک کوئی بیان نہیں جاری کیا گیا۔

اس احتجاج سے دو ہفتے قبل جنوبی سیئرا لیون میں ایبولا کے اکلوتے ہسپتال میں بھی اسی مسئلے پر احتجاج کیا گیا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت نے ایبولا کو صحت کی عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔

ایبولا جسمانی رطوبتوں جیسے خون، پسینہ اور تھوک سے پھیلتا ہے، اور موت کے بعد بھی اس وائرس کے جراثیم کچھ دیر تک جسم میں رہتے ہیں اور اس دوران یہ اتنے ہی خطرناک ہوتے ہیں جتنے کسی زندہ مریض میں۔

اس لیے ایبولا کے مریضوں کے لاشوں کو چھونے والوں کو اس وبا سے متاثر ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں اور وہ عام طور پر حفاظتی لباس پہتے ہیں۔

صحت کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایبولا سے ہلاک ہونے والے لوگوں کو فوری طور پر دفن کیا جانا چاہیے تاکہ انفیکشن پھیلنے کے خطرات کم سے کم ہو سکیں۔

اسی بارے میں