’گھر میں شیر پالا تو ایک لاکھ درہم جرمانہ‘

Image caption متحدہ عرب امارات میں امرا کے شیر، چیتے اور تیندوے پالنے کا رواج ہے

اطلاعات کے مطابق عرب ملک متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ میں حکام نے عوام کے ’خطرناک جانور‘ پالنے اور مکانات کی بالکنیوں میں سامان رکھنے یا وہاں کپڑے لٹکانے پر پابندی لگا دی ہے۔

شارجہ کے حکمران محمد القسیمی نے حال ہی میں ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت عوام کے ’شکاری جانوروں‘ کو بطور پالتو جانور رکھنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق اس حکم کے تحت یہ خطرناک جانور چاہے جس بھی مقصد کے تحت خریدے گئے ہوں انھیں گھروں یا فارم ہاؤس پر نہیں رکھا جا سکے گا۔

حکام کے مطابق حکم عدولی کرنے والے افراد کو ایک لاکھ درہم جرمانہ کیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات میں امرا میں شیر، چیتے اور تیندوے پالنے کا رواج ہے۔

2013 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ شکاری جانور متحدہ عرب امارات میں عام دستیاب ہیں اور ان کی قیمت 50 ہزار درہم تک ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کے لیے دیگر ممالک سے آنے والے افراد کی بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں مقیم ہے

ادھر مقامی اخبار گلف نیوز کے مطابق شارجہ میں ایسے افراد کو جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کی بالکنی میں یا تو کپڑے سوکھ رہے تھے یا پھر وہاں سیٹیلائٹ ڈش نصب کی گئی تھیں۔

دو ہفتے تک جاری رہنے والی مہم کے دوران متعدد افراد کو پانچ سو درہم جرمانہ کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد جرمانے کر کے رقم اکٹھی کرنا نہیں بلکہ یہ شہر کی خوبصورتی برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

تاہم کچھ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھوپ میں کپڑے سکھانے سے نہ صرف ڈرائر چلانے کی صورت میں خرچ ہونے والی بجلی کی بچت ہوتی ہے بلکہ ماحول بھی صاف رہتا ہے۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کے لیے دیگر ممالک سے آنے والے افراد کی بڑی تعداد چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں مقیم ہے اور ان عمارتوں کی بالکنیوں پر لگی الگنیاں کپڑوں سے بھری رہتی ہیں۔