امریکہ: عدالتی فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مظاہرین انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے

امریکی ریاست مزوری میں جیوری کی جانب سے ایک سیاہ فام نوجوان کے قتل پر پولیس اہلکار کو مجرم قرار نہ دینے کے فیصلے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا ہے۔

18 سالہ سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے مقدمے میں پیر کی شام جیوری نےگولی چلانے والے پولیس اہلکار ڈیرن ولسن پر فردِ جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ فیصلہ آتے ہی مائیکل کے آبائی علاقے فرگوسن میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی تھی جس میں درجن بھر عمارتوں کے علاوہ پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا جبکہ علاقے میں لوٹ مار بھی ہوئی تھی۔

منگل کی رات بھی فرگوسن میں ہنگامہ آرائی جاری رہی تاہم یہ پیر کی شب سے کہیں کم تھی۔ مزوری پولیس نے منگل کو مزید 44 افراد کو حراست میں لیا ہے۔.

اس ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے مزوری کے گورنر جے نکسن نے علاقے میں تعیناتی کے لیے نیشنل گارڈز کے مزید 2200 اہلکاروں کو طلب کیا ہے۔

منگل کو اس فیصلے کے خلاف نیویارک سے سیاٹل تک بیشتر امریکی ریاستوں میں پرامن احتجاج ہوا تاہم کیلیفورنیا کے علاقے اوکلینڈ میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔

ان مظاہروں میں شامل افراد نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

دریں اثنا مائیکل براؤن کو گولی مارنے والے پولیس افسر ڈیرن ولسن نے اپنے پہلے عام بیان میں کہا ہے کہ اس عمل کے دوران ان کا ’ضمیر صاف‘ تھا۔

اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے ولسن نے کہا کہ ایسی حالت ہی نہیں تھی کہ وہ کچھ اور کرتے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اپنی جان خطرے میں نظر آ رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مزوری کے گورنر جے نکسن کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے مزید 2200 نیشنل گارڈ کو طلب کر لیا گیا ہے

انھوں نے کہا: ’یہی وجہ ہے کہ میرا ضمیر صاف ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے اپنا کام کیا ہے۔‘

سیاہ فام نوجوان کے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیلوں نے جیوری کے اس فیصلے کو ’غیرمنصفانہ‘ قرار دیا ہے۔

فرگوسن میں موجود بی بی سی کی نمائندہ میشیل فلیوری کا کہنا ہے کہ شہر میں پھر سے کشیدگی میں اضافہ ہو گيا ہے اور ہر عمر کے لوگ مرکزی پولیس سٹیشن کے سامنے جمع ہیں۔

مظاہرین نے منگل کو تھوڑی دیر کے لیے سنٹرل سنٹ لوئیس کی اہم سڑک کو بند کر دیا تھا اور فیڈرل کورٹ کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ فیصلے سے قبل کسی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نیشنل گارڈ کے 700 اہلکار طلب کیے گئے تھے لیکن ہنگامہ آرائی کے بعد حکام نے اب مزید 2200 اہلکار طلب کیے ہیں۔

شکاگو میں منگل کو صدر براک اوباما نے کہا کہ تخریب کاری، مجرمانہ کارروائی اور فسادات کا کوئی جواز نہیں بنتا اور جو بھی اس میں ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف فرگوسن کا مسئلہ نہیں ہے یہ امریکہ کا مسئلہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شکاگو میں منگل کو صدر براک اوباما یہ صرف فرگوسن کا مسئلہ نہیں ہے یہ امریکہ کا مسئلہ ہے

پیر اور منگل کی رات کو سنٹ لوئی کے مختلف علاقوں سے 80 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 61 افراد کو فرگوسن میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پیر کی شام گرینڈ جیوری کا فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی وکیل رابرٹ میکلاؤچ کا کہنا تھا کہ جیوری کا کام حقائق کو فسانے سے الگ کرنا تھا اور وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پولیس اہلکار نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔

مائیکل براؤن کے اہلِ خانہ نے اس فیصلے پر ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کیا ہے۔

مزوری کے علاقے فرگوسن میں پولیس اہلکار ڈیرن ولسن نے 18 سالہ مائیکل براؤن کو رواں برس 9 اگست کوگولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد علاقے میں فسادات ہوئے تھے۔

اسی بارے میں