’ہم کبھی بھی پہلے درجے کے شہری نہیں تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption ثنا جمالیہ سے فیس بک پر دیگر سینکڑوں افراد نے بھی ان کے احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت کے ایک نئے مجوزہ قانون کے خلاف احتجاجاً سینکڑوں اسرائیلی عربوں نے فیس بک پر اپنی پروفائل تصاویر پر ’دوسرے درجے کا شہری‘ کی مہر لگا لی ہے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق یہ احتجاج حیفہ سے تعلق رکھنے والی گرافک ڈیزائنر ثنا جمالیہ نے شروع کیا۔

یہ احتجاج اس مجوزہ قانون کے خلاف ہو رہا ہے جس کے تحت اسرائیل میں شہری حقوق کے حصول کے لیے یہودی ہونا لازم ہوگا۔

وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو اس قانون کے حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے تحت غیر یہودی آبادی کو بھی انفرادی سطح پر حقوق ملیں گے۔

اسرائیل کی آبادی کا 20 فیصد عربوں پر مشتمل ہے جو ایک عرصے سے سماجی، قانونی اور انتظامی سطح پر امتیازی سلوک کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

خود کو اسرائیل کا فلسطینی شہری کہنے والی ثنا جمالیہ سے فیس بک پر دیگر سینکڑوں افراد نے بھی ان کے احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی لیکن ان کا کہنا ہے کہ بظاہر ان کا یہ احتجاج رنگ لاتا دکھائی نہیں دے رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ویسے اس میں نیا کیا ہے؟ ہم کبھی بھی پہلے درجے کے شہری نہیں تھے۔ اب کم از کم انھوں نے یہ بات کھل کر کی تو ہے۔‘

ہارٹز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں تو اس بات کو ترجیح دوں گی کہ وہ ہمیں براہِ راست بتا دیں اور یہ دکھاوا نہ کریں کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں۔‘

احتجاج کے لیے اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرنے والے ایک طالبعلم حنین مجادلی نے اس مجوزہ قانون کو ’توہین آمیز‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ مہم ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے جس کا اثر سیاستدانوں پر پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں