مصر: حسنی مبارک قتل کے الزام سے بری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اگست میں ایک عدالت نے حسنی مبارک کو جیل سے رہائی کا حکم دیتے ہوئے انھیں قاہرہ کے ایک فوجی ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا جہاں وہ نظر بند ہیں

مصر کی ایک عدالت ملک کے معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011 میں بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے مقدمہ واپس لے لیا ہے۔

جب جج نے عدالت میں حسنی مبارک کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کے قتل کے الزام کو خارج کیا تو عدالت کا کمرہ خوشیوں کے نعرے سے گونج اٹھا۔

انھیں اسرائیل کو گیس برآمد کرنے میں بدعنوانی کے الزام سے بھی بری کر دیا گیا ہے۔

دارلحکومت قاہرہ میں کی عدالت نےحسنی مبارک کے ساتھ ان کے وزیر داخلہ حبیب العدلی اور دوسرے چھ سکیورٹی حکام کو بھی سنہ 2011 میں قتل میں ملوث ہونے کے الزام سے بری کر دیا ہے۔

سنہ 2011 میں مارے جانے والے افراد کے اہل خانہ اس فیصلے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔

مصر کی اپیل کورٹ نے گذشتہ سال تکنیکی وجوہات کی بنا پر سنہ 2012 میں حسنی مبارک کو دی گئی عمر قید کی ابتدائی سزا الٹ دی تھی۔

سابق صدر حسنی مبارک پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2011 میں شروع ہونے والی بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔

اگر عدالت حسنی مبارک کو اس مقدمے سے بری کرتی ہے تو وہ رہا نہیں ہوں گے کیونکہ وہ پہلے ہی بدعنوانی کے مقدمے میں تین برس کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

86 سالہ سابق حکمراں اپنے خلاف عائد جانے والے تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حسنی مبارک کے بیٹوں کے خلاف بھی بدعنوانی کے علیحدہ مقدامات چل رہے ہیں

مصر کے سابق وزیرِ داخلہ حبیب العدلی کے ساتھ حسنی مبارک کو بغاوت کے دوران قتل کی سازش کے لیے سزا سنائي گئي تھی۔

مصر کی عدالت نے اگست میں حسنی مبارک کو جیل سے رہائی کا حکم دیتے ہوئے انھیں قاہرہ کے ایک فوجی ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا جہاں وہ نظر بند ہیں۔

حسنی مبارک کے بیٹے جمال جو ایک زمانے میں ان کے جانشین خیال کیے جا رہے تھے کے خلاف بھی بدعنوانی کے الزامات میں سماعت جاری ہے۔

مصر میں حسنی مبارک کی معزولی کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں اسلام پسند رہنما محمد مرسی ملک کے صدر منتخب تاہم فوج نے انھیں ایک سال بعد جولائی سنہ 2013 میں برطرف کر دیا تھا۔

اس کے بعد سابق فوجی سربراہ عبدالفتح السیسی کو ملک کا نیا صدر منتخب کیا گیا۔

دارالحکومت قاہرہ میں جمعے کو پولیس اور اسلام پسند مظاہرین کے درمیان تصادم کے دوران کم از کم دو مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

اس مظاہرے کا اعلان قدامت پسند سلفی گروپ نے کیا تھا۔ یہ گروپ محمد مرسی کی معذولی کے خلاف مظاہرہ کر رہا تھا۔

اسی بارے میں