تحریر سکوائر میں مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عدالتی فیصلے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر مظاہرین تحریر سکوائر میں جمع ہو گئے

مصر میں پولیس نے قاہرہ کے تحریر سکوائر میں ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے جو معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011 میں بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کا مقدمہ واپس لینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

تحریر سکوائر میں تقریباً 2000 افراد جمع ہوئے جہاں اطلاعات کے مطابق جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ تحریر سکوائر کو سنہ 2011 کے انقلاب کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو مصر کی ایک عدالت نے معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011 میں بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے مقدمہ واپس لے لیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر مظاہرین تحریر سکوائر میں جمع ہو گئے۔ اس احتجاج میں اسلام پسند اخوان المسلمین کے ساتھ حسنی مبارک کے آزاد خیال مخالفین بھی شامل تھے جبکہ حسنی مبارک کے حامیوں نے عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔

اسلام پسند مظاہرین کے پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد پولیس نے وہاں پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور مظاہرین کو اردگرد کی گلیوں میں دھکیل دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رمضان محمد جن کے بیٹے سکندریہ میں جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے تھے، کہا کہ ’غریبوں کے لیے کوئی انصاف نہیں، یہ مبارک کا قانون ہے‘

سنہ 2011 میں مارے جانے والے افراد کے اہل خانہ نے، جو اس فیصلے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے، عدالتی فیصلے پر غصے کا اظہار کیا۔

رمضان محمد جن کے بیٹے سکندریہ میں جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے تھے، کہا کہ ’غریبوں کے لیے کوئی انصاف نہیں، یہ مبارک کا قانون ہے۔‘

سابق صدر حسنی مبارک پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2011 میں شروع ہونے والی بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔

86 سالہ سابق حکمراں اپنے خلاف عائد جانے والے تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

مصر میں حسنی مبارک کی معزولی کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں اسلام پسند رہنما محمد مرسی ملک کے صدر منتخب ہوئے، تاہم فوج نے انھیں ایک سال بعد جولائی سنہ 2013 میں برطرف کر دیا تھا۔

اس کے بعد سابق فوجی سربراہ عبدالفتح السیسی کو ملک کا نیا صدر منتخب کیا گیا۔

اسی بارے میں