برطانیہ میں غلامی ’اندازوں سے کہیں زیادہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption گذشتہ برس برطانیہ میں غلامی کی زندگی گزارنے والے افراد کی مجموعی تعداد 2,744 تھی۔

برطانیہ کی وزارت داخلہ کے لیے کیے جانے والے ایک جائزے کے مطابق ملک میں غلامی کے شکار افراد کی تعداد دس سے 13 ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ماضی کے اندازوں اور جائزوں سے خاصی زیادہ ہے۔

غلامی کی جدید تعریف میں ان خواتین کو بھی غلام سمجھا جاتا ہے جن سے زبردستی جسم فروشی کرائی جاتی ہے، ’گھر میں قید‘ کر کے مشقت کرائی جاتی ہے یا ان کا کھیتوں، فیکٹریوں اور ماہی گیری کی صنعت میں استحصال کیا جاتا ہے۔

غلامی کے حوالے سے برطانیہ میں سنہ 2013 کے اعداد وشمار کا منظرِ عام پر آنا پہلا موقع ہے کہ جب ملک میں سرکاری طور پر غلامی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس جائزے کے ساتھ ساتھ حکومت نے برطانیہ میں غلامی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کا بھی اعلان کیا ہے۔

جائزے کے مطابق برطانیہ میں غلامی سے متاثر ہونے والے افراد میں 100 ممالک سےیہاں لائےجانے والے لوگ شامل ہیں جن میں سے زیادہ تعداد کا تعلق البانیہ، نائجیریا، ویتنام سے ہے جبکہ ان میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے بچے اور بالغ افراد بھی شامل ہیں۔

جرائم کی روک تھام کےادارے کےانسانی سمگلنگ سے متعلق ذیلی دفتر کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برطانیہ میں غلامی کی زندگی گزارنے والے افراد کی مجموعی تعداد 2,744 تھی۔اس جائزے میں شامل کیے جانے والے اعداد وشمار جن ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے ان میں پولیس، برطانیہ کی سرحدی فورس (یو کے بارڈر ایجنسی)، فلاحی تنظیمیں اور کھیتوں اور فیکریوں میں مزدروی کا نگران اداہ ’گینگ ماسٹرز لائسنسنگ اتھارٹی‘ شامل تھے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئے اعداد و شمار قومی پالیسی کے مروجہ اصولوں اور طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے جمع کیے ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ انسدادِ جرائم کا محکمہ ’نیشنل کرائم ایجنسی‘ ان اعداد و شمار سے پوری طرح باخبر نہیں رہا ہے۔

ہمہ جہت جدوجہد

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں برطانیہ کی پارلیمان میں ’جدید غلامی بل‘ پر بحث ہو رہی ہے جس کا مقصد ملک میں عدالتوں کو ایسے نئے اختیارت دینا ہے جس کے تحت وہ ان لوگوں کا بہتر دفاع کر سکیں گی جنھیں ان کی رضامندی کے خلاف برطانیہ لایا جاتا اور یہاں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

تاہم غلامی کے تدارک کے لیے مرکزی حکومت کے محکموں اور مختلف متعلقہ ایجنسیوں کے لیے نئی حکمت علمی کا خاکہ بیان کرتے ہوئے وزیر داخلہ ٹیریسا مے کا کہنا تھا کہ نئے قوانین غلامی سے نمٹنے کا ’محض ایک ذریعہ ہیں۔‘

’جس تاریک حقیقت کا ہمیں سامنا ہے وہ یہ ہے کہ برطانیہ سمیت باقی دنیا کے کئی شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ابھی تک غلامی پائی جاتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک ہمہ جہت اور بھرپور کارروائی کی جائے۔دنیا بھر میں معصوم لوگوں کو غلامی کی اذیتوں سے نجات دلانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم برطانیہ سمیت ہر ملک میں ان اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں جو غلامی کے خلاف جد و جہد کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption دنیا کے کئی شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ابھی تک غلامی پائی جاتی ہے: ٹیریسا مے

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یو کے بارڈر ایجنسی انسانی سمگلنگ کے خلاف خصوصی ٹیمیں متعارف کرائے گی تا کہ ہماری بندرگاہوں اور ہوائی اڈّوں پر ان افراد کی نشادھی کی جا سکی جنھیں غلامی کا شکار بنائے جانے کا خدشہ ہو۔ اس کے لیے جرائم سے جمع کی جانی والی رقوم کو ضبط کرنے لیے درکار قانونی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔‘

تازہ ترین جائزے کے اعداد وشمار پر جدید غلامی کی نائب وزیر کیرن بریڈلی کا کہنا تھا کہ انھیں یہ تعداد سن کر کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔

’یہ جرم بہت حد تک ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جرم کو عوام کے سامنے لایا جائے۔اگر ہم آج کا موازنہ دو سو سال پہلے کی غلامی سے کریں، تو اُس وقت بھی لوگوں میں غلامی کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لے کارکنوں کو غلامی کی مثالوں کو منظر عام پر لانا پڑا تھا۔

ہمیں آج جو کام کرنا ہے وہ یہ نہیں کہ لوگوں کو بتائیں کہ غلامی ایک غلط شے ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ آج ہمار کام یہ ہے کہ درپردہ غلامی کو منظر عام پر لائیں۔‘