’سوئس عوام امیگریشن پر پابندیوں کے مخالف‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 74 فیصد لوگوں نے امیگریشن پر حد لگانے کے خلاف ووٹ دیے ہیں

سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے ایک ریفرنڈم کے جزوی نتائج کے مطاق رائے دہندگان نے فیصلہ کن انداز میں اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے کہ غیرملکیوں کی تعداد کو ملکی آبادی کے تین فیصد سے زیادہ نہ ہونے دیا جائے۔

ملک کے 26 صوبوں یا کینٹونز سے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق اب تک کی گنتی میں 74 فیصد لوگوں نے امیگریشن پر حد لگانے کے خلاف ووٹ دیے ہیں۔

غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد محدود رکھنے کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ایک حد سے زیادہ غیر ملکیوں کے سوئٹزر لینڈ آنے سے ملکی وسائل پر بوجھ بڑھ جائے گا، تاہم اس تجویز کے مخالفین کا کہنا تھا کہ غیرملکی افرادی قوت پر پابندی سے ملک کی میعشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ سوئٹزر لینڈ کی 80 لاکھ کی کل آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔

اگر اس ریفرنڈم میں رائے دہندگان مجوزہ پابندی کے حق میں ووٹ دیتے تو حکومت کے لیے ممکن ہو جاتا کہ ہر سال سوئٹزر لینڈ میں آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد 80 ہزار سے کم کر کے 16 ہزار کر دیتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو فکر ہے کہ زیادہ لوگ آجانے سے شہروں میں بھیڑ ہو جائے گی

سوئٹزرلینڈ میں رائج براہ راست جمہوریت میں شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اگر کسی تجویز پر ایک خاص حد تعداد میں لوگوں سے دستخط لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو حکومت اس تجویز پر ریفرنڈم کرانے کی پابند ہو جاتی ہے۔

اس سال فروری میں لوگوں نے امیگریشن کا کوٹہ مقرر کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے لوگ یورپی یونین کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتے کہ یونین کے تمام ممالک میں لوگ آزادنہ ایک ملک سے دوسرے میں جا سکیں۔

جنیوا سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک میں بیروزگاری کم ہے اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہے، تاہم شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو فکر ہے کہ ملک میں زیادہ لوگ آجانے سے شہروں میں بھیڑ ہو جائے گی اور قدرتی ماحول پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے۔

گذشتہ 20 برسوں میں سوئٹزرلینڈ کی آبادی میں دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کا اضافہ ہو گیا ہے اور آج ملک کی آبادی 82 لاکھ کے قریب ہے۔ ان میں سے تقریباً 23 فیصد تعداد دوسرے ملکوں کے شہریوں کی ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق یورپی یونین میں شامل ممالک سے ہے۔

اسی بارے میں