ایران کا عراق میں فضائی حملے کرنے کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایران کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے کی خبریں جھوٹی ہیں: ایرانی دفترِ خارجہ

ایران کی وزارتِ خارجہ نے ان امریکی اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تہران نے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکہ کے محکمۂ دفاع نے تصدیق کی تھی کہ ایران کے جنگی جہاز گذشتہ کئی روز سے عراق کے مشرقی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی خبر دی ہے کہ ایران کے ایف فور جنگی جہازوں کی مدد سے دولتِ اسلامیہ پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

صدر اوباما کا ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو ’خفیہ خط‘

قطر کی دولتِ اسلامیہ کو امداد فراہم کرنے کی تردید

ایرانی وزارتِ خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخام نے کہا کہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف لڑنے اور عراقی حکومت کی مدد کرنے کے حوالے سے ایران کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا دولتِ اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے سے متعلق سب خبریں جھوٹی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے

عراق کے وزارتِ دفاع میں ایک سینیئر ذریعے نے بھی اس کی تردید کی کہ ایرانی ایف فور جنگی طیاروں کی جانب سے مشرقی عراق کے صوبہ دیالا میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اس سے پہلے امریکی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے کہا تھا کہ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ ایران کے جنگی جہازوں نے شمالی عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کئی کارروائیاں کی ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ اطلاعات کے مطابق ایرانی جہازوں نے عراقی صوبے دیالا میں یہ کارروائیاں کیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرے۔

ریئر ایڈمرل جان کربی کے مطابق ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ گذشتہ کئی دنوں سے جاری ایرانی کارروائیوں کی تردید کر سکیں۔

انھوں کہا تھا کہ جنگی سرگرمیوں کے بارے میں ایرانی حکومت ہی سے پوچھنا چاہیے۔

ریئر ایڈمرل جان کربی کےمطابق امریکہ عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور امریکہ اس آپریشن میں ایران سے رابطے میں نہیں ہے اور نہ ہی ہوں گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کی قیادت میں اس کے اتحادی شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ یہ عراق کی فضائی حدود ہیں اور عراق ایک خودمختار ملک ہے اور فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت سے متعلق انھوں نے خود فیصلہ کرنا ہے: ’ہم عراق کی فضائی حدود میں مشن چلا رہے ہیں اور اس ضمن میں عراقی حکومت سے رابطہ کرتے ہیں اور یہ عراقی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ فضائی حدود کی اجازت سے متعلق فیصلہ کرے۔‘

گذشتہ ماہ ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خفیہ خط لکھا ہے جس میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف مشترکہ مفاد میں جنگ کی بات کی گئی ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ خط گذشتہ مہینے بھیجا گیا تھا اور صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد براک اوباما کا ایرانی رہنما کے نام یہ اس قسم کا چوتھا خط ہے۔ خط لکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر براک اوباما کے خیال میں ایران کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل کرنا بہت اہم ہے۔

اس سال جون میں اطلاعات ملی تھیں کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی عراق میں موجود ہیں اور وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں عراقی سکیورٹی فورسز کی مدد کر رہے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی میں مصروف ہیں جن کے دوران دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر سینکڑوں فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں