ابوبکر البغدادی کی اہلیہ اور بیٹا لبنان میں گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ ماہ دولتِ اسلامیہ نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ بغدادی امریکہ فضائی حملوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں

لبنان کی فوج کا کہنا ہے کہ لبنانی سکیورٹی فورسز نے شام کی سرحد کے قریب دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی کی اہلیہ اور ایک بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ انھیں دس روز قبل لبنان میں داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

السفیر اخبار نے خبر دی ہے کہ بغدادی کی اہلیہ سے لبنان کی وزارتِ دفاع میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد جون میں البغدادی کو ’خلافت‘ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ دولتِ اسلامیہ نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ بغدادی شمالی عراق کے شہر موصل میں امریکہ فضائی حملوں میں ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔

اخبار نے اس گرفتاری کو اہم قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ غیر ملکی انٹیلی جنس سروسز کے تعاون سے ان دونوں کو اس وقت شام سے لبنان میں داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا جب یہ جعلی دستاویزات پر سفر کر رہے تھے۔

اخبار کے مطابق ان دونوں کو وزراتِ دفاع میں رکھا گیا ہے جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔

اخبار نے مزید لکھا ہے کہ فوج نے گذشتہ چند دونوں سے اس بڑی پیش رفت کو صیغۂ راز میں رکھا۔

دولتِ اسلامیہ اور ایک دوسرے جہادی گروپ النصرہ نے کم سے کم 20 لبنانی فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہ گروہ لبنان کی جیلوں میں موجود عسکریت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ بصورتِ دیگر انھوں نے فوجیوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی ہے۔

اسی بارے میں