ایک اور اہلکار الزام سے بری، ’محکمہ انصاف تحقیقات کرے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایرک گارنر کی ہلاکت گرفتاری کے دوران بظاہر دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی

امریکہ کے محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک میں سیاہ فام شہری کی موت کے کیس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

یہ اعلان اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے اس وقت دیا جب گرینڈ جیوری نے نیویارک میں سیاہ فام شہری ایرک گارنر کی موت کے کیس میں نیویارک پولیس کے اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ دیا۔

17 جولائی کو پولیس افسر ڈینئل پینٹیلو کی سیاہ فام ایرک گارنر کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لینے جانے کی ویڈیوکے خلاف عوام سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس ویڈیو میں دمے کے مریض 43 سالہ گارنر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہا۔‘

ایرک گارنر کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کے مطابق گارنر کا گلا دبانے کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔

گرینڈ جیوری کے فیصلے کے بعد صدر اوباما نے کہا ہے کہ’اس سے امریکی اقلیتوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں بڑے مسائل ظاہر ہوتے ہیں۔‘

اس فیصلے کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ شہر کے گرینڈ سینٹرل ٹریمینل پر لوگ احتجاجا فرش پر لیٹ گئے۔

امریکی صدر سمیت کئی شخصیات نے لوگوں کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ ایک ہفتہ قبل ہی امریکی ریاست مزوری میں جیوری کی جانب سے ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت پر پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جیوری کے فیصلے کے بعد ایرک گارنر کی بیوہ صدمے سے خود کو سنبھال نہیں پائیں

ان مظاہروں کے بعد صدر اوباما نے پولیس اہلکاروں کی تربیت اور پولیس کے محکمے میں اصلاحات کے لیے کانگریس سے 26 کروڑ ڈالر کے قریب رقم مانگی تھی۔

نیویارک کے میئر بل ڈی بلسیو نے کہا ہے کہ جیوری کا فیصلہ ایسا ہے جو ہمارے شہر میں زیادہ تر لوگ نہیں چاہتے تھے اور اس کے ساتھ انھوں نے لوگوں کو پرامن اور اس فیصلے کو تعمیری انداز میں لینے کی درخواست کی ہے۔

بدھ کی رات کو مظاہرین نیویارک کے مضافاتی علاقے سٹیٹن میں مقام پر جمع ہوئے جہاں پولیس نے ایرک گارنر کوگرفتار کیا تھا۔

گارنر کے اہلخانہ کے وکیل جوناتھن مور کے مطابق انھیں عدالت کے فیصلے پر حیرت ہوئی ہے۔

گارنر کی بیٹی ایرکا سنائپر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ جیوری’ انسان بھی نہیں ہے اور اس میں انسانیت بھی نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ظالمانہ حرکت کی گئی ہے جو کہ کوئی کسی کے خلاف کر سکتا ہے اور یہ ٹھیک نہیں ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گارنر کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے

اس واقعے کی موبائل فون کے ذریعے بنائی جانے والی ویڈیو میں گارنر ہتھکڑی پہننے سے انکار کر رہے ہیں اور پولیس اہلکار پینٹیلو کے ردعمل میں ان کی گردن کے گرد بازو ڈالنے کی وجہ سے وہ دم رک جانے سے انتقال کر گئے۔ نیویارک پولیس کے ضابط اخلاق میں ایسے ردعمل کی ممانعت ہے۔

اس واقعے کے تھوڑی دیر بعد کے ایک اور ویڈیو کلپ میں گارنر زمین پر پڑے نظر آتے ہیں جب کہ اسی دوران ایک ایمبولینس میں طبی عملہ آتا ہے اور گارنر کو وہاں سے اٹھا کر لے جاتا ہے۔

پولیس اہلکار پینٹیلو نے ایک بیان میں گارنر اور ان کے اہلخانے کے لیے دعا کی ہے۔

’میرا ارادہ کسی کو نقصان پہنچانا نہیں تھا اور مجھے گارنر کی موت کا بہت افسوس ہوا۔ میں لوگوں کی مدد کے لیے پولیس افسر بنا تھا اور میرا فرض ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا جو خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں