’مشکل وقت آ رہا ہے‘: پوتن کی روسی عوام کو تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روسی صدر نے ملک سے باہر لے جائے گئے سرمائے کی روس واپسی پر عام معافی دینے کی تجویز دی ہے

روسی صدر ولادی میر پوتن نے روسی عوام کو مشکل حالات کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے ان پر زور دیا ہے وہ خود انحصاری اختیار کریں۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو روسی پارلیمان سے سالانہ صدارتی خطاب کے دوران کہی۔

کریملن میں روسی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے ارکان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے روسی صدر نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ روس کے گرد ایک نئی آہنی دیوار کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔

دنیا میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور مشرقی یوکرین میں روسی کردار کی وجہ سے مغربی ممالک کی پابندیوں کی وجہ سے روس کو معاشی طور پر بہت نقصان پہنچا ہے۔

روسی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ملکی معیشت آئندہ برس سے کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی۔

ولادی میر پوتن نے الزام لگایا کہ غیرملکی ’دشمن‘ روس میں یوگوسلاویہ جیسے حالات پیدا کرنے کے حامی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے اور علیحدگی پسندوں کو ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے نہیں دیا جائے گا۔‘

انھوں نے جزیرہ نما کرائمیا کو روس کا حصہ بنانے پر کسی ندامت کا اظہار نہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ عیسائیت کے ابتدائی دور سے روس کے لیے ’مقدس معانی‘ رکھتا ہے۔

معیشت کے بارے میں بات کرتے ہوئے روسی صدر نے ملک سے باہر لے جائے گئے سرمائے کی روس واپسی پر ’عام معافی‘ دینے کی تجویز دی۔ اندازاً اس برس روس سے ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم باہر لے جائی گئی ہے۔

انھوں نے وعدہ کیا کہ اگر یہ سرمایہ ملک میں واپس لایا جاتا ہے تو ٹیکس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے بارے میں بازپرس نہیں کریں گے۔

ولادیمیر پیوتن نے روس میں کاروبار کرنے والوں کی مدد کے لیے ٹیکسوں کو چار سال کے لیے منجمد کرنے کی بھی تجویز دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روسی صدر کا خطاب ملک میں براہِ راست نشر کیا گیا

امریکی ڈالر کے مقابلے میں روسی کرنسل روبل کی قدر میں نو فیصد کی کمی آ چکی ہے اور روسی صدر نے اس بارے میں روسی مرکزی بینک اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ’روسی کرنسی کی قدر میں تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مندوں کو ناکام بنانے کے لیے سخت اور مربوط اقدامات کریں۔‘

مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ اگر روس کرائمیا کو اپنا باجگزار ریاست نہ بھی بناتا تب بھی مغربی ممالک کسی اور بہانے سے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیتے۔

انھوں نے روسی عوام کے بارے میں کہا کہ ’ہماری عوام نے حب الوطنی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے وہ ہمارے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ ہم کسی بھی مشکل سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کے لیے تیار ہیں۔‘

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزن برگ کا کہنا ہے کہ تیل کی گرتی قیمتیں روس کی برآمدی مارکیٹ کے لیے بری خبر بن کر آئی ہیں جبکہ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد کی گئی اقتصادی پابندیاں ملک کے معاشی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

اسی بارے میں