چین میں جعلی راہبوں کی شامت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چین میں یونیسکو کے تاریخی ورثے میں شمار ہونے والے ماؤنٹ ویتائی میں سنہ 2013 میں دو مندروں کو سیاحوں سے پیسے بٹورنے کے لیے جعلی راہب بھرتی کرنے کی پاداش میں بند کر دیا گیا تھا

چین میں اطلاعات کے مطابق قانونی طور قائم کی جانے والی عبادت گاہوں کو سرٹیفیکیٹ جاری کیے جائیں گے تاکہ عبادت گزاروں کو فریب کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق مذہبی امور کے حکام بدھ مت اور تاؤ مذہب کی حقیقی عبادت گاہوں کو اسناد جاری کریں گے تاکہ ان میں اور جعلی عبادت گاہوں میں فرق کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دھوکے بازوں کو مقدس مقامات پر اپنے آپ کو راہب کے طور پر پیش کر کے لوگوں سے پیسے ہتھیانے سے روکا جا سکے۔

مذہبی امور کی انتظامیہ کے اہکار لیو وائی نے کہا کہ ’بعض غیر مذہبی مقامات پر جعلی راہبوں کو رکھا گیا ہے جو سیاحوں کو دھوکے سے چندہ دینے اور قیمتی اگربتیاں خریدنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔‘

مذہبی مقامات کے منتظمین سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری اسناد کو عبادت گاہ میں ایسی جگہ پر آویزاں کریں جہاں اسے آنے والے دیکھ سکیں۔ بیجنگ میں دو مندروں کو یہ اسناد جاری کی گئی ہیں اور اس طریقۂ کار کو ملکی سطح پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

شن ہوا کے مطابق مذہبی مقامات پر ’کاروباری سرگرمیاں‘ تیز ہونے کے خلاف حکام کے اقدامات کے بعد چین میں کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمیوں سے مالی فائدہ اٹھانا ممنوع ہے۔

چین میں یونیسکو کے تاریخی ورثے میں شمار ہونے والے ماؤنٹ ویتائی میں سنہ 2013 میں دو مندروں کو سیاحوں سے پیسے بٹورنے کے لیے جعلی راہب بھرتی کرنے کی پاداش میں بند کر دیا گیا تھا۔

ان دو مندروں میں سے ایک ’دولت کے خدا کا مندر‘ بظاہر مختلف رسومات کے موقعے پر بہت زیادہ رقم وصول کرتا تھا اور فریب سے لوگوں کو چندے کے لیے خطیر رقم دینے پر مائل کرتا تھا۔

اسی بارے میں