حتمی کامبینیشن کی تشکیل کا آخری موقع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی کپتان مصباح الحق

پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے لیے حتمی کامبینیشن کی تشکیل کے آخری موقع کو ذہن میں رکھتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کا آغاز کررہی ہے۔

پانچ میچوں کی اس سیریز کا پہلا ون ڈے پیر کے روز دبئی میں کھیلا جارہا ہے۔

کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ جن کھلاڑیوں نےورلڈ کپ کھیلنا ہے انہیں اس سیریز میں پورا موقع دیا جائے گا تاکہ انہیں اعتماد ملے اور صرف اتنے ہی تجربے کیے جائیں گے جو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضروری ہوں گے۔اس سیریز میں ایسا کامبینیشن تیار کیا جائے گا جو عالمی کپ میں بھی کھیلے۔

پاکستانی ٹیم میں یونس خان کی واپسی ہوئی ہے جنہیں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز سے ڈراپ کردیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں میں ایک ڈبل سنچری اور دو سنچریوں کی مدد سے 717 رنز اسکور کیے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یونس خان جیسے سینیئر بیٹسمین کو مکمل اعتماد دے کر یہ سیریز کھلائی جائے گی یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ان جیسے سینیئر بیٹسمین کو یہ کہیں کہ انہیں ٹرائل کی بنیاد پر کھلایا جا رہا ہے۔ اس وقت وہ زبردست فارم میں ہیں اور ٹیم انہیں مکمل طور پرسپورٹ کرے گی تاکہ وہ ذہنی طور پر کسی دباؤ کے بغیر کھل کر کھیل سکیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ یونس خان نے 254 ڈے انٹرنیشنل میچوں میں چھ سنچریوں اور 48 نصف سنچریوں کی مدد سے7017 رنز بنارکھے ہیں تاہم ان کی آخری سنچری چھ سال قبل نومبر 2008 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں بنی تھی۔

یہ سیریز کپتان مصباح الحق کے لیے بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے جو آسٹریلیا کے خلاف دو ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں قابل ذکر اسکور نہ کرنے کے بعد آخری ون ڈے سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں ان کے ناقدین کے اس مطالبے میں شدت آگئی تھی کہ انہیں ورلڈ کپ سے باہر کردیا جائے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی کپتانی پر مکمل اعتماد ظاہر کردیا تھا جس کے بعد مصباح الحق نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ابوظہبی ٹیسٹ میں نہ صرف دونوں اننگز میں سنچریاں اسکور کی تھیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بھی برابر کردیا تھا۔

کپتان مصباح الحق فاسٹ بولر محمد عرفان کے بارے میں کافی محتاط دکھائی دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی باؤنسی وکٹوں پر محمد عرفان کی بولنگ غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہوگی لہذا انہیں اس سیریز میں احتیاط سے استعمال کیاجائے گا۔

پاکستانی ٹیم کو اس سیریز میں محمد حفیظ کی بولنگ کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی جن کے مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں رپورٹ آچکی ہے اور وہ اپنے بولنگ ایکشن کی درستگی تک انٹرنیشنل کرکٹ میں بولنگ نہیں کرسکیں گے۔

اسی بارے میں