زمین بنی اسرائیل کی، زیتون مسلمانوں کے

Image caption غرب اردن کے زیتون کس قدر لذیذ ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ مجھے کوئی دس برس پہلے ہوا

دنیا میں شاید ہی کوئی چیز ایسی ہو جس پر اسرائیلوں اور فلسطینیوں کے درمیانی سیاسی تنازع نہ ہو۔ زیتون کی فصل اس سے کیسے بچ سکتی ہے۔

غرب اردن کے زیتون کس قدر لذیذ ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ مجھے آج سے کوئی دس برس پہلے اس وقت ہوا جب ایک فلسطینی کسان نے مجھے ناشتے میں زیتون کا تیل پیش کیا تھا۔اس وقت میں اس کسان کے اس وسیع کھیت کے کنارے کھڑا تھا جسے اسرائیلی تباہ کر رہے تھے۔

اس کسان کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ اریئل کی یہودی بستی کے بہت قریب رہتا تھا، اور اریئل وہ سب سے بڑی یہودی بستی ہے جو اسرائیل نے اس علاقے کے عین وسط میں بنائی ہے جو فلسطینیوں کے خیال میں ان کی ریاست کا ایک اہم مقام ہو سکتا ہے۔

موجودہ صدی کے چند ابتدائی برسوں میں اسرائیل نے سیمنٹ کی مضبوط اور اونچی دیواریں بنانا شروع کر دی تھیں جو اس کے خیال میں فلسطینیوں کی جانب سے حملوں کو روکنے اور اسرائیلی عوام کی سلامتی کے لیے ضروری ہیں۔

ان دیواروں اور رکاوٹوں کی تعمیر پر اتنا تنازع نہ ہوتا اگر اسرائیل انھیں تعمیر کرتے وقت اس لکیر یا سرحد کا لحاظ رکھتا جو سنہ 1949 کی جنگ بندی کے وقت طے ہوئی تھی۔

اس جنگ بندی کی لکیر کے مطابق مشرقی بیت المقدس اور غرب اردن کا علاقہ اسرائیل کا حصہ نہیں تھا، لیکن سنہ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے اس علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب اسرائیل نے نئی دیواریں اور رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کیں تو اس میں بھی زمین کے ان ٹکڑوں کو لپیٹ لیا جو فلسطینیوں کے خیال میں ان کے علاقے تھے۔

Image caption صلاح ابو علی کا کہنا ہے کہ یہ درخت کوئی چار سو سال پرانا ہے

جس صبح میں نے پہلی مرتبہ غرب اردن کا زیتون کا تیل چکھا، اس روز میرا میزبان اپنے زیتون کے درختوں کی کیاریوں کو تہس نہس ہوتے دیکھ رہا تھا۔

اس نے پوری کوشش کی کہ زیتون کے جتنے درخت بچ سکتے ہیں بچا لے، لیکن وہ تمام فصل نہیں بچا سکا کیونکہ اسرائیلیوں نے وہاں جو باڑ لگائی تھی وہ اس کے کھیتوں کے درمیان سے گزاری۔

کسان کو کہا گیا تھا کہ اسے خاردار باڑ کی دوسری جانب جا کر پکے پوئے زیتون اتارنے کی اجازت ہوگی، تاہم اس کے لیے اسے پرمٹ لینا پڑے گا۔ اگر قسمت ساتھ دے تو اکثر کسانوں کو دو دن کے لیے اسرائیلی فوجیوں کی نگرانی میں باڑ کی دوسری جانب جا کر ایک دن پودے لگانے اور ایک دن جا کر فصل کاٹنے کا موقع دیا جاتا ہے، اور ایسا اسی دن ممکن ہوتا ہے جب گیٹ پر اسرائیلی سنتری بھی کھڑا ہو۔

بہت بڑی علامت

فلسطینی کسان مجھے واپس اپنے گھر لے آیا اور مجھے میٹھی چائے کے گلاس، روائتی تبون نامی روٹی، اپنی بھیڑ کے دودھ سے بنا ہوا پنیر اور گھر کے بنے ہوئے زیتون کے تیل کا بھرا ہوا پیالہ پیش کیا۔

میں روٹی کے نوالے میں تازہ زیتون کی خوشبو محسوس کر سکتا تھا اور جب میں نے وہ نوالہ چبایا تو میرا منہ زیتون کے تیکھے اور مرچوں والے ذائقے سے بھر گیا۔

وہ زیتون چکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ واقعی غربِ اردن کی پہاڑیوں پر اگنے والی کوئی شے بےذائقہ یا بے بو نہیں ہو سکتی۔

شاید یہ کہنا غلط نہ ہوکہ غرب اردن کا زیتون دنیا بھر میں سب سے زیادہ ’سیاسی‘ فصل ہے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازع نے شرح پیدائش سے لے کر جنازوں تک، زندگی کے ہر پہلو کو سیاست کے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ یہاں زیتون کا تیل بھی محض کھانے کا تیل نہیں رہا۔

Image caption مشرق وسطیٰ میں زیتون کھانے کا ایک اہم جزو ہے

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں کے دوران یہودی بستیوں کے مکینوں کی جانب سے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر کیے جانے والے حملوں میں تقریباً 50 ہزار درختوں کو تباہ کر دیا گیا جن میں زیادہ تر درخت زیتون کے تھے۔

اگرچہ فلسطینی کسانوں کو اپنے زیتون کے درختوں سے آمدن کا محض ایک چوتھائی ملتا ہے، تاہم یہ بات صرف زیتون سے ہونے والی آمدن تک محدود نہیں۔

زیتون کے درخت فلسطینیوں کی اپنی زمین سے محبت اور لگاؤ کی سب سے بڑی علامت ہیں۔

میرے سامنے صلاح نامی ایک فلسطینی نے زیتون کے ایک ایسے درخت کی ٹہنی کو چُھوا جس سے زیادہ خوبصورت درخت میں نے غرب اردن میں اپنے پورے قیام کے دوران نہیں دیکھا تھا۔ یہ درخت اتنا قدیم تھا کہ اس کا مرکزی حصہ لوہے کی طرح سخت ہو چکا تھا اور یہ اتنا چوڑا تھا کہ جب میں نے اسے اپنے بازووں میں لینے کی کوشش کی تو میرے بازو اس کے تنے کے ایک چوتھائی حصے سے زیادہ نہ تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس درخت کا قطر 20 فٹ یا چھ میٹر سے بھی زیادہ تھا۔

ایسے درختوں کی ٹہنیاں صدیاں گذر جانے کے بعد خود تنوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اسی لیے صلاح کے صدیوں پرانے زیتون کے درخت الگ الگ درختوں کی بجائے درختوں کے ایک گنجان جنگل کا منظر پیش کر رہے تھے۔ یہ درختوں کا چھوٹا سا جنگل ہی صلاح کی تمام جاگیر ہے جس پر اسے بڑا فخر ہے۔ ان درختوں کے ساتھ صلاح کے لگاؤ کا عالم یہ ہے کہ وہ انھیں اپنی جائیداد نہیں سمجھتا بلکہ اس کی گفتگو سے لگتا ہے کہ وہ خود ان درختوں کی جاگیر ہے۔

صلاح کا کہنا تھا کہ ’صرف خدا جانتا ہے کہ یہ درخت کتنا پرانا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ چار ہزار سال یا اس بھی زیادہ قدیم ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں اس درخت کا نوکر ہوں۔ اس درخت کے ساتھ میرا تعلق میرے دادا پڑدادا تک جاتا ہے۔ میرا اس درخت کے ساتھ تعلق اتنا مضبوط ہے کہ مجھے لگتا ہے یہ میرے جسم اور میری روح کا حصہ ہے۔‘

Image caption ایوراہم ہرزلچ آج کل بکریاں چراتے ہیں۔

صلاح ابو علی کے بقول یہ درخت ’ زندگی ہے، جیسے پانی زندگی ہے۔ یقین کریں مجھے اس درخت سے پیار ہے۔ میرا اس درخت کے ساتھ ایک خاص رشتہ ہے۔ مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ اب اس کی ضرورت کیا ہے۔ جب اسے تکلیف ہوتی ہے تو مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ درخت درد میں ہے۔ میں جب اس کے قریب ہوتا ہوں تو یہ درخت خود کو محفوظ سمجھا ہے۔ میں نے اسے اپنے پسینے سے سنچا ہے۔ یہ درخت فلسطینی لوگوں کی تاریخ اور ان کی تہذیب کی علامت ہے۔‘

’کتنی نسلیں آئیں اور چلی گئیں لیکن یہ درخت اب بھی یہاں کھڑا ہے اور پھل سے لوگوں کو نواز رہا ہے۔‘

ہر سال کا میدان جنگ

ابو علی کی زمین یروشلم کے قریب ہی ایک گاؤں میں ہے جس کا نام ولیجہ ہے۔

اسرائیل نے اس علاقے میں جو باڑ لگائی ہوئی ہے وہ اس قدیم اور عظیم الجثہ درخت کے قریب سے گزرتی ہے۔

میرا کہنا تھا کہ واقعی یہ درخت بہت قدیم ہے لیکن آخر کار یہ درخت ہی تو ہے۔ میری اس نا سمجھی پر ابو علی مسکرا دیے۔

ابو علی کے لیے یہ درخت نہ صرف ان کی زندگی بلکہ ان کے آباؤ اجداد اور آئندہ نسلوں کی زندگی کی علامت ہے۔ یہ درخت اس بات کی علامت ہے کہ سرزمین فلسطین میں ان کے خاندان کا تعلق کس مقام سے ہے۔

علامتی نسبت کے علاوہ، ابو علی کے لیے یہ درخت معاشی لحاظ سے بھی اہم ہے۔ ہر کسی کو اچھے زیتون کے تیل کی تلاش ہوتی ہے اور یہ تیل خاصا مہنگا ملتا ہے۔ میں مشرق وسطیٰ میں جہاں بھی گیا میں نے زیتوں کے تیل کی یہی اہمیت دیکھی۔

مشرقی بیت المقدس سمیت جہاں جہاں اسرائیل کا قبضہ ہے وہاں یہ قبضہ تشدد کے زور پر قائم رکھا جاتا ہے اور اس سے مزید تشدد جنم لیتا ہے، جس کے نتیجے میں یہودی آبادکار اور فلسطینی ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

کچھ انتہا پسند یہودی کہتے ہیں کہ یہ علاقہ صرف اور صرف بنی اسرائیل کی ملکیت ہے، اس لیے فلسطنیوں کے درختوں کو نشانہ بنانا بنی باسرائیل کا قانونی حق ہے۔ شاید اسی وجہ سے اب مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مذہبی مخاصمت میں بھی زیتون کے درخت نشانہ بن رہے ہیں۔

Image caption غرْ اردن میں سب سے زیادہ پیدا ہونے والے زیتون قدرے کڑوے ہوتے ہیں

تپورہ نامی ایک یہودی بستی کے باہر میری ملاقات ایوراہم ہرزلچ سے ہوئی۔

ایوراہم ہرزلچ ایک زبردست یہودی مقرر ہیں جو امریکی ریاست نیویارک کے شہر بروکلین سے 50 سال پہلے ہجرت کر کے یہاں آباد ہو گئے تھے۔ وہ اس یہودی بستی اور اس کے گرد نواح میں نوجوان یہودیوں کے لیے ایک گُرو کا درجہ رکھتے ہیں۔

ایوراہم ہرزلچ کی بیٹی طالیہ اور ان کے میاں سنہ 2000 میں فلسطینیوں کے ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایوراہم ہرزلچ کے داماد ایک یہودی عالم یا ربّی تھے اور ان تعلق بدنام یہودی عسکریت پسند گروہ ’میر کہان‘ سے تھا۔

ایوراہم ہرزلچ آج کل بکریاں چراتے ہیں۔

ان کے بقول وہ اپنی بکریوں کی نسبت سے اس زمین سے منسلک ہیں جو خدا نے یہودیوں کو دی تھی۔ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ان کا تعلق اس زمین سے جڑا ہوا ہے جس سے تل ابیب اور بحیرہ روم کے کنارے آباد دوسرے یہودی محروم ہیں۔

ایوراہم ہرزلچ اپنی بکریاں قریبی فلسطینی گاؤں کے زیتون کے باغات میں چراتے ہیں۔ ان کی دراز قد بڑی بڑی بڑی بکریاں اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑی ہو کر فلسطینیوں کے درختوں کی ٹہنیاں کھینچ کھینچ کر پکے ہوئے زیتون چباتی رہتی ہیں۔

ایوراہم ہرزلچ کے بغل میں ہر وقت تورات کا ایک نسخہ ہوتا ہے۔

ایوراہم ہرزلچ کی بکریاں جن فلطسینیوں کے درخت برباد کرتی ہیں ان کے لیے ایوراہم ہرزلچ کے پاس جواب تیار ہوتا ہے۔

Image caption بسام راشد اور نجا کے بقول زیتیون کے درخت ان کے بچوں جیسے ہیں

’میں انھیں صاف صاف بتا دیتا ہوں کہ یہ زمین ہماری ہے۔ میں جب بھی کسی عرب کو زیتون کے درخت کے پاس کھڑا دیکھتا ہوں تو میں اسے بتا دیتا ہوں کہ وہ ہماری زمین پر کھڑا ہے۔ یہ زمین بنی اسرائیل کی ہے۔ اگر یہ درخت تمھارے ہیں تو انہیں بنی اسرائیل کی زمین سے اکھاڑ کر کہیں دوسری جگہ لے جاؤ۔ یہ زمین ہماری ہے، ان کی نہیں۔‘

’یہ زمین ہماری ہے‘

اپنی مقدس کتاب کو لہراتے ہوئے ایوراہم ہرزلچ نے کہا: ’ تورات ہمیں بتاتی ہے کہ یہ زمین بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ یہ زمین حضرت ابراہیم کی گدّی کے حقدادروں، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کے وارثوں کی زمین ہے نہ کہ حضرت اسماعیل کے وارثوں کی۔ اس لحاظ یہ زمین ہم یہودیوں کی ہے۔‘

اس کے بعد ایوراہم ہرزلچ نے مزید کچھ فقرے دہرائے جو ان کے خیال میں کوئی دھمکی نہیں بلکہ حقائق پر مبنی الفاظ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مسلمانوں کو یہاں سے جانا پڑے گا۔ اگر یہ لوگ یہاں سے نہیں جاتے تو یہ مارے جائیں گے۔ اب ایک اور جنگ ہوگی اور اس جنگ میں یہ زندہ نہیں بچیں گے۔ یہ لڑائی بڑی شدید لڑائی ہو گی۔‘

’آپ کو بہت سے لوگ عربوں کے ساتھ امن کی بات کرتے دکھائی دیں گے لیکن ایک ایسا شخص جسے عربوں کے ہاتھوں اتنی تکلیف پہنچی ہو وہ ایسا نہیں کہ سکتا۔ عربوں نے میری بیٹی کو قتل کر دیا اور میرے نواسے نواسیوں کو یتیم کر دیا۔ آپ اس درد کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔ عرب لوگ بربریت کی سب سے بڑی علامت ہیں۔ یہ لوگ خود کو دھماکوں سے اڑا دیتے ہیں۔‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہودی بستیوں میں ایوراہم ہرزلچ جیسے لوگوں کا بہت اثر و رسوخ ہے اور لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ تاہم کچھ آباد کاروں سمیت عام اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد ایوراہم ہرزلچ جیسے لوگوں کو یہودیوں کے لیے ایک مہنگی مصیبت تصور کرتے ہیں اور یا یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ اسرائیل کے مستقبل اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔ یہودی آبادکاروں کی ایک اچھی خاصی تعداد نئی بستیوں میں محض کھلی آب و ہوا اور سستے مکانوں کی وجہ سے آباد ہوئی ہے نہ کہ خدا کی قربت حاصل کرنے کے لیے۔

Image caption اور مالکی اور یام مالیکی کہتے ہیں کہ ان کا کام آبادکاروں اور فلسطنینوں کو جھگڑوں سے دور رکھنا ہے

لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوا کہ ایوراہم ہرزلچ اور ان جیسے دیگر نظریاتی یہودی آباد کار اس خطے کی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں کیونکہ اسرائیل کی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں میں ان لوگوں کا اثر رسوخ گہرا ہے۔ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جب بھی کسی دیرا امن کی بات ہوگی تو اس میں یہودی بستیوں کا مسئلہ ضرور زیر بحت آئے گا اور اس صورت میں اس بات کے امکانا زیادہ ہیں کہ ایوراہم ہرزلچ جیسے لوگوں کی سنی جائے گی۔

تپاچ کی بستی سے نیچے وادی میں فلسطینیوں کا ایک گاؤں ہے جس کا نام یوسف ہے۔ میں یہاں پہنچا تو بسام راشد اور ان کی اہلیہ نجا اپنے درخت سے پکے ہوئے زیتون اتار رہے تھے۔

چند دن قبل ہی انھیں خبر ملی تھی کہ یہودی آباد کار نے بڑی بڑی آریوں کے ذریعے ان کے زیتون کے درخت کاٹ دیے ہیں جن میں سے کچھ درخت سو سال سے زیادہ عمر کے تھے۔

بسام راشد کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ سخت غصے میں تھے۔ ’یہ ایسا ہی ہے کہ آپ ایک بچے کو پال پوس کر بڑا کریں اور پھر اسے آپ سے چھین لیا جائے۔ یہ درخت ہماری بنیادیں ہیں ، ہماری جڑیں ہیں۔‘

’کھبی نہ ختم ہونے والی جنگ‘

’ہمیں ایسا محسوس ہو رہا جیسے ہم اپنے گھر کے کسی فرد کو دفن کر رہے ہیں۔ ہر ہفتے آبادکاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ نیچے ہماری زمینیوں پر اتر آئیں۔ ہم مرد انھیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں پیچھے دیکھیل دیتے ہیں۔‘

’ان آبادکاروں کا کہنا ہے کہ ہم یہاں سے نکل جائیں۔ ہم اپنی زمین پر مرجانا پسند کریں گے۔ وہ چاہے ہمارے درخت کاٹ دیں، ہماری زمینوں تباہ کر دیں، ہمارے گھر تباہ کر دیں اور ہمارے بچوں پر حملے کریں، ہم پھر بھی اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے۔ ہم کبھی بھی یہاں سے نہیں نکلیں گے۔ اور اگر آباد کار یہاں سے نہیں جاتے تو یہ جنگ تا ابد جاری رہے گی۔‘

یہ مسئلہ معاشی بھی ہے اور جذباتی بھی۔

بسام رشید کا کہنا ہے کہ ’ ہماری فصل بہت کم ہو گئی ہے۔ ہم باڑ کی دوسری جانب جا کر تیل اور زیتون نہیں لا سکتے۔ ہماری تین تہائی کاشت باڑ کی دوسری جانب ہے جو ہم سے چھین لی گئی ہے۔

’ہم اپنے بوڑھوں بچوں کو لےکر وہاں جاتے تھے اور اپنے درختوں سے زیتون اتارتے تھے، لیکن اب ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہمیں فکر ہوتی ہے کہ اگر ہم وہاں گئے تو آبادکار حملہ کر دیں گے۔

Image caption عبداللہ نسان کے خیال میں زیتون ان کی فلسطینی شناخت کا اہم حصہ ہیں

’ہمیں خطرہ رہتا ہے کہ وہ ہمیں ماریں گے، اور اگر ہم اپنے دفاع میں بھی کچھ کریں گے تو وہ بھی ہماری ہی غلطی تصور کی جائے گی۔ ہمیں جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور ہم سے ہماری سفری اجازت نامے یا پرمٹ بھی چھین لیے جاتے ہیں۔‘

رملہ سے کچھ دور ایک وادی میں جہاں فلسطینی درختوں سے زیتون اتار رہے تھے، میں نے اسرائیلی فوج کے دو نوجوان افسروں کو دیکھا اور مالکی اور یام مالیکی کا اصرار تھا کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں اور آبادکاروں کے درمیان کسی بھی قسم کے جھگڑے کو روکنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔‘

ان دونوں کا کہنا تھا کہ امن عامہ ان کی اولین ترجیح ہے اور اسرائیلی فوج آباد کاروں کی طرفداری نہیں کرتی۔

میرے وہاں ہوتے ہوئے ایک فلسطینی زمیندار نے دونوں افسروں کو خوش آمدید کہا اور زیتون کی خشک ٹہنیوں پر پڑی ہوئی کیتلی سے گرم گرم چائے پیالیوں میں ڈال کر انھیں پیش کی۔

مسٹر نسان، جو کہ سات ہزار درختوں کے مالک ہیں، ان کا نکتہ نظر اسرائیلی فوجیوں سے مختلف تھا۔

زیتون کے درختوں کے جھمگھٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مسٹر نسان کا کہنا تھا کہ ان درختوں پر آبادکاروں نے قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ اور ان کے فلسطینی دوست ان درختوں کو چُھو بھی نہیں سکتے۔ ’جب بھی کوئی تنازع ہوتا ہے تو فوجی ہمیں دھکیل کے پیچھے کر دیتے ہیں اور آبادکاروں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔‘

’تاہم ان فوجیوں کی موجودگی کا فائدہ یہ ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے آبادکار یہاں نہیں آتے۔ جب یہ لوگ یہاں نہیں ہوتے تو آبادکار اپنی بندوقوں کے زور پر ہمیں دھکیل کے ہماری زمینوں سے نکال دیتے ہیں۔‘

ایک قریبی پہاڑی پر قائم کی جانے والے یہودی بستی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مسٹر نسان نے کہا کہ’میں جب بھی یہاں آتا ہوں وہ لوگ اس بستی سے نیچے آ کر میرا پیچھا کرا شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں آنا میرے لیے بہت خطرناک ہے، لوگ بہت خوفزدہ ہیں کیونکہ آبادکاروں بہت متشدد قسم کے لوگ ہیں۔‘

’ایک دن یہی زیتون کے درخت ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘

یہ درخت ہمارے لیے ایک علامت ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہمارے پاس ان درختوں کے علاوہ بچا ہی کیا ہے۔ اگر ہم ان درختوں کو نہ پکڑے رکھیں تو ہمارے پاس کون سی ایسی دوسری چیز ہے جسے ہم ہاتھ سے چھو سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد اپنی سرزمین کی حفاظت کرنا ہے۔‘

اسی بارے میں