سنکیانگ: بازار پر حملے کے ملزمان کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سال مئی میں چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں ایک مارکیٹ پر ہونے والے حملے کے جرم میں چھ افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ اس حملے میں 39 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حملہ آوروں نے اُرمچی کے ایک بازار میں خریداری میں مصروف لوگوں پر دو کاریں چڑھانے کے علاوہ دستی بم بھی استعمال کیے تھے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے اپریل میں ایک ریلوے سٹیشن پر حملے کے ملزمان کو بھی سزا سنائی جس میں دو افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔

ان حملوں کے بعد چینی حکومت نے شورش زدہ صوبے سنکیانگ میں اس قسم کے حملوں کے خلاف کارروائیاں سخت کر دی تھیں۔ چینی حکومت کا موقف ہے کہ اس صوبے میں شورش کے پیچھے علیحدگی پسند عناصر کا ہاتھ ہے جن میں مسلمان شامل ہیں۔

چھ افراد کو جن الزامات کے تحت سزا سنائی گئی ہے ان میں دہشت گرد تنظیم میں حصہ لینا، دھماکہ خیز مواد حاصل کرنا اور بدعنوانی کے الزامات شامل ہیں۔

دو دیگر سزا پانے والے ملزمان کو جس قسم کی سزائے موت سنائی گئی ہے اس میں عموماً ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی جاتی ہے۔

30 اپریل کو سنکیانگ کے ایک ریلوے سٹیشن پر حملہ اس وقت ہوا تھا جب چینی صدر صوبے کا دورہ ختم کر رہے تھے۔ اس حملے میں حملہ آوروں نے چاقو اور بم لہراتے ہوئے سٹیشن پر کھڑے لوگوں پر دھاوا بول دیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

اب تک سنکیانگ میں شدت پسندوں کی مختلف کارروائیوں میں 200 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے سختی کے بعد سے درجنوں افراد کو موت یا قید کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔

چین سے باہر قائم تنظیم ’ورلڈ اویغور کانگریس‘ کا الزام ہے کہ سنکیانگ میں جاری پرتشدد کارروائیاں دراصل مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جن کے تحت مرکزی حکومت علاقے کی ثقافت کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سنکیانگ مسلم اقلیت اویغور کا آبائی صوبہ تصور کیا جاتا ہے اور یہاں حالیہ مہینوں میں اویغور آبادی اور ہان آبادکاروں کے درمیان نسلی تصادم ہوتے رہتے ہیں، تاہم ایسی خبروں تک عالمی ذرائع ابلاغ کی رسائی محدود ہے کیونکہ چینی حکومت کا ایسی اطلاعات پر کنٹرول بہت سخت ہے۔

واضح رہے کہ سنکیانگ کا صوبہ چین کے انتہائی مغرب میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں پاکستان کے علاوہ وسطی ایشیائی ممالک سے ملتی ہیں۔

مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اس علاقے میں ترقی پر بے پناہ رقم خرچ کر رہی ہے، لیکن اویغور لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی روایات کو کچلا جا رہا ہے۔

سنہ 2009 میں یہاں ہونے والے ہنگاموں میں 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں