شرین دیوانی کے خلاف اہلیہ کے قتل کا مقدمہ خارج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مقدمے کے اخراج کے بعد اب شرین دیوانی کو رہا کر دیا جائے گا

جنوبی افریقہ کی ایک عدالت کی جج نے بھارتی نژاد برطانوی شہری شرین دیوانی کے خلاف ان کی اہلیہ عینی کے قتل کا مقدمہ خارج کر دیا ہے۔

جج جینٹ ٹریورسو کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد ملزم کو سزا دینے کے لیے ناکافی تھے۔

جج کا مزید کہنا تھا کہ استغاثہ کے مرکزی گواہ ٹیکسی ڈرائیور زولا ٹونگو کے بیان میں تضاد ہے اور وہ بہت زیادہ مشکوک ہے۔

جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’ملزم کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا۔‘ عدالتی فیصلے کے بعد اب شرین دیوانی کو رہا کر دیا جائے گا۔

عینی دیوانی کے خاندان نے جج کے فیصلے پر ردِ عمل میں انتہائی مایوسی اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکمل کہانی سنی ہی نہیں گئی۔

عدالت کے باہر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’شرین دیوانی دوہری زندگی جی رہے تھے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شرین دیوانی کی بیوی عینی کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا

ان کا اشارہ وکیل صفائی کے اس اعتراف کی جانب تھا کہ شرین دیوانی دونوں اصناف کے لیے جنسی رجحان رکھتے ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ 13 نومبر کو ہونے والے سماعت میں شرین دیوانی کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ انھیں اپنی بیوی عینی دیوانی کے قتل کی سازش کے بارے میں سب کچھ معلوم تھا۔

دیوانی ہنی مون کے دوران جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اس کے استقبالیہ کلرک مانڈ بولمبو نے ویسٹرن کیپ ہائی کورٹ کو بتایا کہ شرین دیوانی جھوٹ بول رہے ہیں کہ انھیں اپنی بیوی کے قتل کے بارے کچھ نہیں معلوم۔

ان کا کہنا تھا کہ دیوانی قتل سازش کے شروع ہونے سے آخر تک ہر بات سے باخبر تھے۔

برطانوی شہر برسٹل سے تعلق رکھنے والے بھارتی نژاد برطانوی شہری شرین دیوانی پر نومبر سنہ 2010 میں کیپ ٹاؤن کے گرد و نواح میں اپنی بیوی کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کا الزام تھا۔ تاہم وہ ان الزامات سے انکار کرتے رہے۔

دیوانی کی بیوی عینی کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption عینی کو نومبر سنہ 2010 میں کیپ ٹاؤن قتل کیا گیا

استغاثہ کا الزام تھا کہ دونوں اصناف کے لیے جنسی رجحان رکھنے والے شرین دیوانی ایک طویل عرصے سے عینی کے ساتھ قائم تعلق سے جان چھڑانا چاہتے تھے اور انھوں نے ایک ایسے حملے کی منصوبہ بندی کی جس میں وہ خود تو بچ گئے لیکن عینی کو قتل کر دیا گیا۔

دیوانی کو جنوبی افریقہ کی عدالت میں تین دیگر ملزمان، ٹیکسی ڈرائیور زولا ٹونگو، زیواماڈوڈا کوابی اور زولیل اینجینی سمیت قتل کے مقدمے کا سامنا تھا۔ عینی دیوانی کے قتل کے الزام میں ٹیکسی ڈرائیور زولا ٹونگو کو 18 سال کی قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے مقدمے کا سامنا کرنے والے شرین دیوانی کو جنوبی افریقہ کے حوالے کیا تھا۔ برسٹل سے تعلق رکھنے والے بزنس مین شرین دیوانی پچھلے تین سال تک کارروائی کے لیے جنوبی افریقہ جانے سے انکار کرتے رہے۔

اسی بارے میں