گوانتاناموبے سے رہائی پانے والے افراد یوراگوئے پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوراگوائے کے صدر جوزۓ موجیکا نے اس سال مارچ میں ان قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے ملک میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا تھا

گوانتاناموبے سے رہائی پانے والے چھ افراد آزاد حیثیت سے یوراگوئے پہنچ گئے جہاں پر انھیں آباد کیا جائے گا۔

اتوار کے روز پینٹاگان سے جاری ایک بیان کے مطابق رہا ہونے والوں میں ایک تیونس، ایک فلسطین اور چار شام کے شہری ہیں۔

امریکہ کے مطابق یوراگوئے بھجوائے جانے والے قیدیوں کے نام احمد عدنان عجوری، عبدالاحدی فراج، علی حسین شعبان، عدل بن محمد الا اوغی، محمد عبداللہ طاحہٰ متان اور ابو وائل دئب ہیں۔

ان افراد کو القائدہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا مگر ان پر کبھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

یوراگوائے کے صدر جوزۓ موجیکا نے اس سال مارچ میں ان قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے ملک میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

پینٹاگون سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا گوانتاناموبے کی جیل کو بند کر نے کی کوششوں میں یوروگوئے کی حکومت کی مدد پر شکرگزار ہے۔

43 سالہ ابو وائل دئب کے ایک وکیل نے کہا کہ ان موکل جنوبی امریکی ملک کی جانب سے انھیں قبول کرنے پر شکر گزار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دائب نے گونتانوموبے میں اپنی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال کر رکھی تھی

انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو سے تعلق رکھنے والے وکیل کوری کرائڈر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’وہ خیال کرتے ہیں کہ یہی ان کا گھر ہے۔‘

انھوں نے اپنے موکل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اب ان کی توجہ صرف جلد ٹھیک ہونے پر ہے اور یقیناً وہ اپنے بچوں اور بیوی سے ملنا چاہتا ہے۔‘

دائب نے گونتانوموبے میں اپنی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔

یوروگوائے کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ان چھ افراد کو طبی معائنے کے لیے فوجی ہسپتال میں لے جایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گوانتانامو میں موجود 172 قیدیوں میں سے نصف سے زائد کی منتقلی کی منظوری دی جا چکی ہے مگر وہ غیر محفوظ یا غیر مستحکم ممالک کے شہری ہیں اس لیے ان کو واپس نہیں بھجوایا جا سکا۔

اب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں مگر لاطینی امریکہ میں سلواڈور واحد ملک ہے جس نے 2012 میں دو قیدیوں کو پناہ دی۔

یوراگوۓ میں حال ہی میں کیے جا نے والے ایک سروے کے مطابق عوام کی اکثریت ان قیدیوں کی آمد کے خلاف ہےـ

مگر ملک کے صدر جوزۓ موجیکا جو خود فوجی دورِ حکومت میں دس سال قید کاٹ چکے ہیں، رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دینے کے حق میں ہیں۔

جمعے کو چھ قیدیوں کو لینے کے عزم کو دوہراتے ہوئے ان کا کہنا تھا، یوراگوائے گوانتانامو بے میں ایک خوفناک اغوا کا سامنا کرنے والے انسانوں کو اپنی مہمان نوازی کی پیشکش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں