اقوامِ متحدہ کی سب سے بڑی امدادی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption اس اپیل میں صرف شام کے مہاجرین کی مدد کے لیے سات ارب، 20 کروڑ ڈالر شامل ہیں

اقوامِ متحدہ نے آئندہ برس کے دوران اپنے امدادی آپریشنز کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی امدادی اپیل جاری کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے پیر کو جاری کی جانے والی اپیل میں سنہ 2015 کے لیے 16 ارب، 40 کروڈ ڈالر کی اپیل جاری کی گئی ہے۔

اس اپیل میں صرف شام کے مہاجرین کی مدد کے لیے سات ارب، 20 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔

اس سے قبل ادارے کی جانب سے گذشتہ سال 13 ارب ڈالر کی اپیل جاری کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسرے امدادی اداروں نے متبنہ کیا تھا کہ ان کے لیے رواں برس کے دوران امدادی کام جاری رکھنے کے لیے نقد رقم تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔

خوراک کے عالمی ادارے نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ انھیں رقم کی کمی کے باعث شام کے مہاجرین کو دی جانے والی خوراک میں کمی کرنے پڑے گی۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کی جانے والی نئی اپیل میں شام میں جاری بحران سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے دو ارب، 80 کروڑ ڈالر کی رقم بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ نے ہمسایہ ممالک میں رجسٹرڈ مہاجرین کی مدد کے لیے اضافی چار ارب، 40 کروڑ ڈالر کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسرے امدادی اداروں نے متبنہ کیا تھا کہ ان کے لیے رواں برس کے دوران امدادی کام جاری رکھنے کے لیے نقد رقم تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے

اقوامِ متحدہ کے امدادی آپریشنز میں گذشتہ برس شام، جنوبی سوڈان اور جمہوریہ وسطی افریقہ کے لیے امداد کا بڑا حصہ خرچ کیا گیا تھا۔

یوکرین کے بحران، عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور ایبولا کا وبائی مرض بھی امدادی رقم میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی فلاح کے ادارے کی سربراہ ویلری ایموس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں اس سے پہلے امداد کی اتنی ضرورت نہیں تھی۔

جنیوا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انسانی امداد کا کام راتوں رات نہیں ہوتا اور اس کے لیے امدادی اداروں کو منصوبے بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے انھیں نقد رقم کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2011 میں شروع ہونے والے اس تنازعے میں اب تک 63 لاکھ لوگ شام کے اندر در بدر ہو چکے ہیں جب کہ 20 لاکھ شامی ہمسایہ ملکوں کو ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

جو لوگ شام میں رہ گئے ہیں ان میں سے نصف کو امداد کی ضرورت ہے، اور سردیوں کا موسم شروع ہونے کے بعد صورت حال ابتر ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی امدادی اداروں کو کہنا ہے کہ شام میں حکومت اور باغیوں میں جاری لڑائی کی وجہ سے انھیں انسانی امداد، جن میں دوائیاں اور طبی امداد بھی شامل ہے، متاثرہ علاقوں تک پہنچانے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

اسی بارے میں