ہانگ کانگ: پولیس نے مظاہروں کا مقام خالی کروا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی جمعرات کی صبح شروع کی جسے ان طویل مظاہروں کے خلاف حتمی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے

ہانگ کانگ میں دو ماہ سے جاری مظاہروں کے مقام پر پولیس جمہوریت کے حامی مظاہرین کو گرفتار کر رہی ہے اور احتجاج کے مرکزی مقام کو خالی کروا رہی ہے۔

بہت سے لوگ پولیس اور بیلف اہلکاروں کو دیکھ کر وہاں سے چلے گئے۔ پولیس نے کیمپ کے گرد موجود رکاوٹیں ہٹا دی ہیں، تاہم اب بھی کئی مظاہرین پولیس کی تنبیہ کے باوجود وہاں رہنے پر مصر ہیں۔

پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی جمعرات کی صبح شروع کی جسے ان طویل مظاہروں کے خلاف حتمی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

مظاہرین کی تعداد حالیہ ہفتوں میں خاصی کم ہوئی ہے جو ستمبر میں لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔

یہ مظاہرین بیجنگ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ 2017 میں ہونے والے ہانگ کانگ کے سربراہ کے انتخابات کو آزادانہ ہونے دیا جائے۔ چین کا کہنا ہے کہ تمام افراد ووٹ دے سکتے ہیں لیکن انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کو خبردار کیا گیا کہ 30 منٹ کے اندر علاقہ چھوڑ دیں بصورتِ دیگر گرفتاری کے لیے تیار رہیں۔ جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کیمپ خالی کروانا اور خیمے اکھاڑنا شروع کر دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹیلی وژن فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس فرسٹ ایڈ اور طلبہ کے پڑھنے کے لیے لگائے گئے خیمے گرا رہی ہے

اطلاعات ہیں کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میں حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی مارٹن لی، طلبہ رہنما نیتھن لا، میڈیا کی اعلیٰ شخصیت جمی لائی اور گلوکار ڈینائیسی ہو شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جب پولیس نے آخر میں بچ جانے والے مظاہرین سے جانے کو کہا تو ہانگ کانگ فیڈریشن آف سٹوڈنٹس کے رہنما نے کہا کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

اسی دوران مظاہروں کے مخالف افراد بھی سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔

ٹیلی وژن فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس فرسٹ ایڈ اور طلبہ کے پڑھنے کے لیے لگائے گئے خیمے گرا رہی ہے۔

علاقے سے ٹوٹی ہوئی رکاوٹوں، چھتریوں اور پلاسٹک شیٹوں کا ملبہ اٹھانے کے لیے کرینوں اور ٹرکوں کا استعمال کیا گیا۔

یہ صفائی ایک عدالتی فیصلے کے بعد کی گئی ہے جو ایک بس کمپنی کی جانب سے دائر مقدمے پر دیا گیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کی وجہ سے اس کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق مظاہروں کے تین مقامات کو خالی کروا لیا گیا ہے تاہم پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سڑکیں بھی خالی کروائی جائیں گی۔

بعض لوگوں نے پولیس کے آنے سے پہلے سے جگہ چھوڑ دی۔ ایک 29 سالہ احتجاجی کارکن کا کہنا ہے کہ ’میں پولیس کی کارروائی سے پہلے جا رہا ہوں کیونکہ اگر میرا نام پولیس ریکارڈ میں آیا تو میری نوکری کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں